فلسطین کے حق میں سرگرمیوں پر کولمبیا کے برنارڈ کالج سے تیسرے طالبعلم کو نکال دیا گیا
جمعہ کے روز کولمبیا یونیورسٹی کے برنارڈ کالج سے تیسرے طالبعلم کو گزشتہ سال کیمپس میں ہونے والی pro-Palestinian سرگرمیوں کی پاداش میں نکال دیا گیا، جب کہ ان کے خلاف کارروائی کا آغاز دس ماہ پہلے ہوا تھا۔
کولمبیا یونیورسٹی اپارتھائیڈ ڈائیوسٹ (CUAD) ڈیفنس ورکنگ گروپ کے بیان کے مطابق، نیویارک سٹی میں واقع خواتین کے کالج برنارڈ سے اس طالبعلم کو "نسل کشی میں یونیورسٹی کی سرمایہ کاری کے خلاف احتجاج کرنے اور ہندز ہال پر مبینہ قبضے میں حصہ لینے” کے الزام میں نکالا گیا۔ برنارڈ، کولمبیا یونیورسٹی کا حصہ ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں کسی طالبعلم کو گزشتہ بہار میں شروع ہونے والے احتجاج میں مبینہ شرکت پر نکالا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ہفتے بعد سامنے آیا جب دو دیگر طالبعلموں کو جنوری میں ایک کلاس کے دوران احتجاج کرنے پر نکالا گیا تھا، جس کے بعد برنارڈ غزہ جنگ کے حوالے سے طلبہ کو نکالنے والا پہلا ادارہ بن گیا۔
تیسرے طالبعلم کی اچانک برطرفی اس وقت ہوئی جب کولمبیا یونیورسٹی کے دفتر برائے عوامی امور کو مطلع کیا گیا کہ ایک وفاقی ٹاسک فورس یونیورسٹی سمیت دیگر نو اداروں کا دورہ کرے گی تاکہ یہ جانچ سکے کہ آیا ان اداروں نے یہودی طلبہ اور اساتذہ کو غیر قانونی امتیازی سلوک سے محفوظ رکھنے میں ناکامی تو نہیں دکھائی، جو کہ وفاقی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی ہوگی۔
یہ ٹاسک فورس سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 29 جنوری کو جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر "یہود مخالف تعصب کے خلاف اضافی اقدامات” کے تحت قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد "سکولوں اور کالجوں میں یہود مخالف ہراسانی کا خاتمہ” ہے۔ CUAD ڈیفنس ورکنگ گروپ کے مطابق، طالبعلم کی برطرفی کا تعلق اسی ٹاسک فورس کے کولمبیا یونیورسٹی کے دورے کے اعلان سے ہے
اپنے بیان میں گروپ نے کہا: "برنارڈ نے طلبہ سے بات کرنے یا سرمایہ کاری ختم کرنے کے بجائے، امریکی محکمہ انصاف کو خوش کرنے کے لیے جلد بازی میں طلبہ کو سزا دے کر نکالنے کا راستہ اپنایا۔ CUAD کے ترجمان کے مطابق، اس طالبعلم کو گزشتہ سال اپریل کے وسط میں عارضی طور پر معطلکیا گیا تھا اور پھر یکم مئی کو ہندز ہال پر مبینہ قبضے کے الزام میں دوسرا نوٹس دیا گیا۔ پہلی معطلی کو "حل” کر دیا گیا تھا لیکن دوسری معطلی گزشتہ گرمیوں میں بھی برقرار رہی۔
گزشتہ خزاں میں طالبعلم کے خلاف ایک ذاتی سوشل میڈیا پوسٹ پر تیسری تادیبی کارروائی بھی کی گئی، اور پانچ ستمبر کو دوبارہ عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ یہ معطلی 16 مئی 2025 کو ختم ہونی تھی۔
پہلے دو نکالے گئے طلبہ کی طرح، تیسرے طالبعلم کے خلاف تادیبی کارروائی بھی برنارڈ کے دفتر برائے طالبعلم مداخلت اور کامیابی کے ایک ہی ملازم کی نگرانی میں ہوئی، اور اس میں کسی دوسرے اساتذہ یا عملے کو شامل نہیں کیا گیا جو طلبہ سے واقف تھے۔
کولمبیا اور دیگر کالجوں پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ طلبہ کو دس ماہ سے زیادہ عرصے تک طویل تادیبی کارروائیوں میں الجھائے رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں اپنی تعلیمی زندگی جاری رکھنے دیں۔نکالے جانے پر ردعمل
پہلے دو طالبعلموں کی برطرفی کے بعد طلبہ نے ایک ہفتے تک احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ 26 فروری کو برنارڈ اور کولمبیا کے تقریباً 100 طلبہ نے مین ہیٹن کے مورنسائیڈ ہائٹس میں مل بینک ہال میں برنارڈ ڈین کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔
CUAD کے مطابق، برنارڈ کی قیادت نے دھرنے میں شریک طلبہ کو اجتماعی گرفتاریوں کی دھمکی دی۔
دھرنے کے تقریباً چھ گھنٹے بعد، برنارڈ کی صدر لورا روزن بری اور برنارڈ کی نائب صدر اور ڈین لیسلی گرینیج نے کہا کہ وہ دھرنے میں شامل مظاہرین کو عام معافی دیں گی اور اگلے دن طلبہ کے ساتھ ملاقات کر کے برطرفیوں کو واپس لینے پر بات چیت کریں گی۔

