ایک سینئر حماس عہدیدار نے المیادین کو بتایا کہ حالیہ ملاقات میں امریکی نمائندے اور حماس کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی، جس کے بعد امریکی فریق کو گروپ کے ساتھ مذاکرات کے امکان کے حوالے سے "مثبت تاثر” ملا۔تاہم، عہدیدار نے بتایا کہ امریکی نمائندے نے صرف ممکنہ قیدیوں کے تبادلے پر توجہ مرکوز رکھی اور جنگ بندی یا غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے جیسے وسیع تر معاملات پر بات نہیں کی عہدیدار کے مطابق، "امریکی فریق نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوئی مخصوص فریم ورک پیش نہیں کیا بلکہ اس معاملے پر حماس کے مؤقف کو سنا فلسطینی مزاحمتی رہنما نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ ملاقات امریکی درخواست پر ہوئی تھی اور اسرائیلی حکام اس سے حیران رہ گئے۔
حماس کا اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
حماس نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تمام شقوں، مراحل اور تفصیلات پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا، کیونکہ معاہدے کے پہلے مرحلے کا اختتام ہو چکا ہے۔
اپنے بیان میں فلسطینی تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ "اسرائیل” پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ معاہدے کی اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل کرے اور بغیر کسی تاخیر یا چالاکی کے دوسرے مرحلے پر فوری عملدرآمد شروع کرے ادھر، دو مصری سیکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ قاہرہ میں اسرائیلی وفد معاہدے کے پہلے مرحلے کو مزید 42 دن بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حماس کسی بھی توسیع کی مخالفت کرتی ہے اور معاہدے کے دوسرے مرحلے کو ابتدائی منصوبے کے مطابق آگے بڑھانے پر اصرار کرتی ہے، جس میں جنگ کے مستقل خاتمے کی جانب اقدامات شامل ہیں
اسرائیل پہلے مرحلے کو طول دینا چاہتا ہے
پہلے مرحلے کی جنگ بندی ہفتہ کے روز ختم ہو گئی، اور اسرائیل و حماس کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اگر نیا معاہدہ نہ ہوا تو کیا ہوگا۔ مصر اور قطر ان مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں جنہیں امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔دو اسرائیلی سرکاری حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ "اسرائیل” جنگ بندی کے پہلے مرحلے کو طول دینے کا خواہاں ہے اور اس نے تجویز دی ہے کہ حماس ہر ہفتے تین قیدیوں کو رہا کرے، جس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں مصر نے جمعرات کواعلان کیا کہ اسرائیلی، قطری اور امریکی وفود قاہرہ میں دوسرے مرحلے کے لیے "بھرپور” مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا مقصد جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے معاہدہ طے کرنا ہے۔
جمعرات کے روز اسرائیلی قابض وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ "نیتن یاہو نے مذاکراتی وفد کو قاہرہ روانہ ہونے کی ہدایت دی،” یہ اعلان اس وقت ہوا جب حماس نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کے بدلے چار قیدیوں کی باقیات حوالے کیں۔

