225 گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑا قافلہ، جس میں ضروری خوراک، اشیائے ضرورت اور پیٹرولیم مصنوعات شامل تھیں، کامیابی کے ساتھ پاراچنار پہنچ گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 4 مارچ کو 225 گاڑیوں پر مشتمل یہ اہم سپلائی قافلہ پاراچنار پہنچا۔ دوسری جانب، کرم میں امن معاہدے کے تحت بنکرز کی مسماری اور متعلقہ خندقوں کو ختم کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 272 بنکرز کو مسمار کیا جا چکا ہے۔امن معاہدے کے تحت اسلحہ اور ہتھیاروں کی مرحلہ وار سرکاری تحویل میں لینے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے، اور اب تک 100 سے زائد شرپسندوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل، پیر کے روز کرم ضلع میں 130 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا تھا۔ اس قافلے میں پانچ آئل ٹینکرز بھی شامل تھے، جو ٹل سے پاراچنار جا رہا تھا۔
یہ حملہ لوئر کرم کے علاقے چار خیل کے قریب ہوا، جہاں حملہ آوروں نے قافلے پر فائرنگ کی، گاڑیوں کو روک کر لوٹ مار کی، اور ایک دوا بردار ٹرک سمیت دیگر سامان چھین لیا۔
پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں پشاور سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور اکرم خان زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے علی زئی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

