جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان میں گرفتار مبینہ افغان شدت پسند کی امریکی عدالت میں پیشی

پاکستان میں گرفتار مبینہ افغان شدت پسند کی امریکی عدالت میں پیشی
پ

پسِ منظر

امریکی حکام نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ کے خودکش حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں شریف اللہ عرف جعفر کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، ملزم کو ورجینیا کی وفاقی عدالت میں ابتدائی سماعت کے لیے پیش کیا گیا، جہاں انہیں حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔

یہ حملہ 26 اگست 2021 کو کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے "ایبی گیٹ” پر ہوا تھا، جس میں 13 امریکی فوجی اور تقریباً 170 افغان شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ شدت پسند تنظیم "داعش خراسان” نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

عدالتی کارروائی اور قانونی چیلنجز

ابتدائی سماعت کے دوران، ملزم شریف اللہ کو عدالت نے آگاہ کیا کہ اگر ان پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو مدد فراہم کرنے کی سازش کا الزام ثابت ہوا، تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ملزم نے مترجم کی مدد سے جج سے بات چیت کی، اور ان کے دفاع کے لیے ایک سرکاری وکیل مقرر کیا گیا۔

ایف بی آئی کے سربراہ کیشپ پٹیل نے شریف اللہ کی زیرِ حراست تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی، جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے باضابطہ بیان میں تصدیق کی کہ وہ "داعش خراسان” سے وابستہ ہیں اور متعدد حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

شریف اللہ کی گرفتاری کے محرکات

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، شریف اللہ 2016 میں داعش خراسان میں شامل ہوئے اور افغانستان میں کم از کم 21 حملوں میں ملوث رہے۔ وہ تنظیم کے رہنما شہاب المہاجر کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

انہیں ستمبر 2019 میں افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (NDS) نے گرفتار کیا تھا، لیکن 15 اگست 2021 کو طالبان کے کابل پر قبضے کے دوران وہ جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی

سی آئی اے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ایک مشترکہ کارروائی میں شریف اللہ کو تقریباً دس روز قبل بلوچستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ "ایگزیو” کے مطابق، سی آئی اے طویل عرصے سے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی، اور جیسے ہی ان کے ٹھکانے کی حتمی معلومات حاصل ہوئیں، آئی ایس آئی نے انہیں گرفتار کر لیا۔

امریکی صدر نے کانگریس سے خطاب کے دوران اس گرفتاری پر پاکستان کے تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف کے مطابق، شریف اللہ کو پاک-افغان سرحدی علاقے میں کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

عدالتی کارروائی کے اہم نکات

2 مارچ 2025 کو امریکی محکمہ انصاف نے شریف اللہ پر ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو مدد فراہم کرنے اور ہلاکت خیز سازش کے الزامات عائد کیے۔

5 مارچ 2025 کو ورجینیا کی وفاقی عدالت میں پیشی کے دوران، شریف اللہ نے اعتراف کیا کہ وہ ایبی گیٹ حملے میں شامل تھے اور انہوں نے حملہ آور کو راستے کی نشاندہی کی تھی۔ ان کے مطابق، وہ امریکی اور طالبان چوکیوں کی نگرانی کرتے رہے اور داعش کے ساتھیوں کو اطلاع دی کہ راستہ صاف ہے۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ شریف اللہ نے ماسکو کے "کروکس سٹی ہال” حملے میں بھی داعش خراسان کے لیے معاونت فراہم کی تھی۔ ایف بی آئی کے انٹرویو میں، انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ ممکنہ حملہ آوروں کو ہتھیاروں کی تربیت بھی دیتے رہے ہیں۔

نتائج اور مضمرات

اگر شریف اللہ پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں ممکنہ طور پر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس مقدمے سے افغانستان، پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کا ایک نیا باب کھلنے کا امکان ہے۔

نتائج

شریف اللہ کی گرفتاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیوں میں مستقل مزاجی کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ کابل ایئرپورٹ حملے جیسے واقعات نہ صرف خطے میں سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین