جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانسرحد پر افغان فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری، پاکستانی شہری زخمی

سرحد پر افغان فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری، پاکستانی شہری زخمی
س

بدھ کو مسلسل تیسرے روز بھی پاکستان اور افغانستان کی سرحدی سیکیورٹی فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ سے ایک پاکستانی شہری زخمی اور کچھ مکانات کو نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق سرحدی علاقے کے مقامی ذرائع نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ باچا مینا کا رہائشی اسحٰق خان افغانستان کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹر گولے کی زد میں آ کر زخمی ہوا، تاہم اس کی چوٹیں جان لیوا نوعیت کی نہیں تھیں۔ ذرائع کے مطابق زخمی شخص کو ابتدائی طور پر لنڈی کوتل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے اسے مزید علاج کے لیے پشاور کے ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ مارٹر گولوں کے باعث متعدد گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جن کا زیادہ تر نشانہ پہاڑی چوٹیوں پر قائم چوکیاں اور دونوں اطراف کی فوجی تنصیبات تھیں۔ افغان علاقے میں بھی کچھ عمارتیں تباہ ہوئیں۔شہریوں نے بتایا کہ منگل کی رات گئے توپوں کی گھن گرج تھم گئی تھی، تاہم بدھ کی دوپہر کو دوبارہ فائرنگ اور گولہ باری کا آغاز ہوا، جو شام تک جاری رہی۔دریں اثنا، جماعت اسلامی کے رہنما شاہ فیصل آفریدی نے دونوں برادر مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ طورخم بارڈر پر جاری لڑائی کو فوری طور پر بند کیا جائے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔

بدھ کے روز لنڈی کوتل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ فیصل آفریدی نے زور دیا کہ طورخم سرحد پر طاقت کا استعمال خطے کے مجموعی امن کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ سرحد کے دونوں جانب سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ مسلمان پشتون ہیں۔ شاہ فیصل آفریدی نے بگڑتی ہوئی صورتحال پر خاموشی اختیار کرنے پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ دونوں حکومتیں فوری طور پر مسئلے کے حل کے لیے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طورخم بارڈر پر کشیدگی کی وجہ سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ بارڈر کی بار بار اور مسلسل بندش کی وجہ سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین