قاہرہ، 4 مارچ (رائٹرز) – اسرائیل نے منگل کے روز عرب ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر تنقید کی، جبکہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے اس کا خیرمقدم کیا۔ قاہرہ میں عرب رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے فوراً بعد اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ منصوبہ "7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد کی حقیقتوں کو نظرانداز کرتا ہے”۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ "حماس کے وحشیانہ دہشت گرد حملے، جس میں ہزاروں اسرائیلی ہلاک اور سیکڑوں اغوا کیے گئے، کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس قاتل دہشت گرد تنظیم کی مذمت کی گئی”۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ "حماس کے وحشیانہ دہشت گرد حملے، جس میں ہزاروں اسرائیلی ہلاک اور سیکڑوں اغوا کیے گئے، کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس قاتل دہشت گرد تنظیم کی مذمت کی گئی”۔ حماس نے عرب رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کا پابند کریں۔ حماس نے مزید کہا: "ہم اپنے عوام کی جبری نقل مکانی کی کوششوں کو مسترد کرنے والے عرب مؤقف کی قدر کرتے ہیں۔” عرب ممالک کے نمائندے منگل کو قاہرہ میں اکٹھے ہوئے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے مصر کے 53 ارب ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی، جس میں فلسطینیوں کی دوبارہ آبادکاری سے گریز شامل ہے۔ ادھر اسرائیل نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کرکے اردن اور مصر میں منتقل کرنا ہے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ عرب ممالک نے اس منصوبے کو موقع دیے بغیر مسترد کر دیا۔
اسرائیل نے عرب اعلامیے میں فلسطینی اتھارٹی اور اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی (UNRWA) پر انحصار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ یہ دونوں ادارے پہلے ہی "بدعنوانی اور دہشت گردی کی حمایت” کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ عرب اعلامیے میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد کی ترسیل روکنے کے حالیہ فیصلے کی مذمت کی گئی، مغربی کنارے میں اسرائیلی "جارحیت” کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا اور غزہ و مغربی کنارے میں UNRWA کے اہم کردار کو تسلیم کیا گیا۔

