جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیایران کی عدالت کا تاریخی فیصلہ: امریکہ تھیلیسیمیا مریضوں کو 12.6 ارب...

ایران کی عدالت کا تاریخی فیصلہ: امریکہ تھیلیسیمیا مریضوں کو 12.6 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرے
ا

تہران میں ایک ایرانی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ امریکہ کو تھیلیسیمیا کے مریضوں کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا، کیونکہ واشنگٹن نے سخت پابندیوں کے تحت ان مریضوں کو ضروری ادویات تک رسائی سے محروم کر دیا تھا۔ یہ پابندیاں 2018 میں تہران کے ساتھ ہونے والے ایک تاریخی معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کے بعد دوبارہ نافذ کی گئی تھیں۔

امام خمینی جوڈیشل کمپلیکس کی بین الاقوامی امور سے متعلق 55ویں شاخ نے بدھ کے روز یہ فیصلہ سنایا، جس میں 438 تھیلیسیمیا مریضوں نے امریکہ کی 17 قدرتی اور قانونی شخصیات کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جو اسلامی جمہوریہ ایران پر ادویات سے متعلق پابندیاں عائد کرنے میں ملوث تھے۔

عدالت کے فیصلے میں امریکی حکومت اور اس کے عہدیداروں کو 12.615 ارب ڈالر کے مادی، اخلاقی اور تعزیری ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے کہا: "ثانوی پابندیوں اور ادویات سے متعلق پابندیوں کے آغاز سے، اصل اور معیاری ادویات کی عدم دستیابی کے باعث، مریضوں کو کم معیار کی ادویات دی گئیں، جس کے نتیجے میں انہیں شدید پیچیدگیوں اور علاج کے بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔”

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا: "حقیقت یہ ہے کہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے ضروری ادویات کی عدم دستیابی نے دوائیوں سے الرجی کے واقعات میں اضافہ کیا اور دیگر دوائیوں کے استعمال سے ہونے والی تکلیف اور اذیت میں شدت پیدا کی۔”

عدالت نے نشاندہی کی کہ ان ادویات کے تباہ کن اثرات سے نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی نفسیاتی اور جسمانی نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے مریضوں کو معاشرتی تعلقات، تعلیمی مواقع اور ملازمت کے امکانات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا: "امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں، جنہوں نے ضرورت مند اور کمزور آبادی کو زندگی کے حق سے محروم کرتے ہوئے جسمانی نقصان پہنچایا، عام شہریوں کے خلاف مجرمانہ اقدامات کی واضح مثال ہیں، جو ان کے خلاف قانونی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہیں۔”

تھیلیسیمیا ایک موروثی خون کی بیماری ہے جو جسم میں ہیموگلوبن کی مقدار کو معمول سے کم کر دیتی ہے۔ ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیوں کو آکسیجن لے جانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بیماری پیدائش سے ہی لاحق ہوتی ہے اور اس کے مریضوں کو خون کی منتقلی کے دوران اضافی آئرن کے اخراج کے لیے مخصوص ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، ضروری ادویات کی فراہمی کو روک دیا گیا ہے، جس میں سویس ادویہ ساز کمپنی نووارٹس (Novartis) اور فرانسیسی کمپنی روکیٹ فرئیرس (Roquette Frères) کے تیار کردہ اہم اجزاء شامل ہیں، جو اس مرض کے علاج میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مئی 2018 میں ایران کے جوہری معاہدے (مشترکہ جامع عملی منصوبہ – JCPOA) سے یکطرفہ علیحدگی کے بعد ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی تھیں، حالانکہ ایران معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل کر رہا تھا۔

ان پابندیوں کی وجہ سے وہ مالیاتی ذرائع بھی مسدود ہو گئے جو ایران کو ضروری ادویات، طبی سازوسامان اور علاج معالجے کی دیگر اشیاء فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے تھے۔

اگرچہ واشنگٹن اور اس کے مغربی اتحادی دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان پابندیوں سے مستثنیٰ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران میں ہزاروں مریض ضروری ادویات کی عدم دستیابی کے باعث یا تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا شدید بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین