جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانپاکستان میں دراندازی: ہلاک دہشتگرد افغانستان ملٹری اکیڈمی کا کمانڈر نکلا

پاکستان میں دراندازی: ہلاک دہشتگرد افغانستان ملٹری اکیڈمی کا کمانڈر نکلا
پ

افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان دہشت گردوں کے ملوث ہونے میں بتدریج اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ایک اور افغان دہشت گرد کی شناخت ہو گئی ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، جہاں سے یہ عناصر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 28 فروری 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے غلام خان کلے کے علاقے میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران 14 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا۔ ان دہشت گردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے جن میں سے ایک کی شناخت مجیب الرحمٰن عرف منصور ولد مرزا خان کے طور پر ہوئی ہے۔ مجیب الرحمٰن افغانستان کے صوبہ میدان وردک کے ضلع چک کے دندار گاؤں کا رہائشی اور حضرت معاذ بن جبل نیشنل ملٹری اکیڈمی کی تیسری بٹالین کا کمانڈر تھا۔

اس سے قبل بھی 30 جنوری 2025 کو ڈی آئی خان میں ہونے والے ایک آپریشن میں افغان دہشت گرد بدرالدین ولد مولوی غلام محمد کو ہلاک کیا گیا تھا، جو افغان فوج میں لیفٹیننٹ اور صوبہ باغدیس کے ڈپٹی گورنر کا بیٹا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان شہری مختلف حیلوں، جیسے تعلیم اور علاج کی غرض سے پاکستان آ کر دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جبکہ متعدد افغان نوجوان خود بھی رضاکارانہ طور پر اس فتنے کا حصہ بن رہے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان عبوری حکومت کے اہلکار اور تحریک طالبان افغانستان کے سابق کمانڈرز سمیت کئی افراد دہشت گرد تنظیموں خصوصاً فتنہ الخوارج کے ساتھ قریبی روابط رکھتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت دہشت گردوں کے قبضے میں جدید ہتھیاروں کی موجودگی ہے، جو افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کو واضح کرتی ہے۔

دفاعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان اس وقت ہر قسم کے دہشت گردوں کے لیے افزائش گاہ بن چکا ہے، جہاں سے پاکستان میں حملوں کے لیے مکمل معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ماہرین نے افغان عبوری حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے بجائے اپنے عوام کی بنیادی ضروریات، خصوصاً صحت اور تعلیم، پر توجہ دے تاکہ افغانستان کے عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

دفاعی تجزیہ کاروں نے افغان عوام کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں اور بچوں کو فتنہ الخوارج جیسی دہشت گرد تنظیموں سے دور رکھیں، کیونکہ جو افغان شہری پاکستان میں گھس کر دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں، ان میں سے اکثر یا تو مارے جاتے ہیں یا گرفتار ہو جاتے ہیں، جس کا نقصان بالآخر افغان معاشرے کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین