پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یوز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے یہ نیا فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب غزہ کے عوام کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
✅ غزہ کی تازہ صورتحال اور پاکستان کا مؤقف
🔹 پاکستان کا مطالبہ:
- دفتر خارجہ کی جانب سے مطالبہ کہ:
- عالمی برادری فوری نوٹس لے۔
- جنگ بندی معاہدے پر مکمل اور حقیقی عمل درآمد کرایا جائے۔
- فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جائے۔
🔹 تازہ پیش رفت:
- اسرائیل کا اقدام:
▪️ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع کی حماس کی درخواست مسترد۔
▪️ غزہ کے لیے امدادی ٹرکوں اور گاڑیوں کو روک دیا۔ - حماس کا مؤقف:
▪️ اسرائیلی تجاویز مسترد۔
▪️ مستقل جنگ بندی اور امن کے لیے دوسرے مرحلے کا آغاز ضروری قرار دیا۔
▪️ الزام کہ اسرائیل جنگ جاری رکھنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ - حازم قاسم (حماس کے ترجمان):
▪️ اسرائیل مذاکرات شروع نہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔
▪️ اسرائیل باقی قیدیوں کی بازیابی کے نام پر جنگ چھیڑنے کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
🔔 تجزیہ:
- اسرائیل: جنگ بندی کو محدود رکھ کر صرف قیدیوں کی رہائی تک فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
- حماس: مستقل اور پائیدار جنگ بندی کے بغیر کسی مرحلے کی توسیع کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
- پاکستان: فلسطینی عوام کے حق میں مسلسل آواز بلند کر رہا ہے، عالمی برادری کو حرکت میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
✅ عالمی برادری کے لیے چیلنجز:
- دونوں فریقوں کے بیچ اعتماد کا فقدان۔
- انسانی بحران میں تیزی، خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی قلت۔
- جنگ بندی معاہدے کو جامع اور طویل مدتی امن میں بدلنے کی ناکامی۔

