شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے، آدھی رات کو ہونے والی جھڑپوں کے دوران متعدد سیکیورٹی چوکیوں پر حملہ کرنے والے کم از کم 13 دہشت گرد بھی مارے گئے۔
✅ شمالی وزیرستان – حالیہ دہشتگرد حملے اور آپریشنز کا جائزہ
🔹 اہم حملہ (اتوار کی رات):
- مقام: اسپالگا، گوش، ٹپی، باروانا، پیپانا لوئر، پپانا ٹاپ (6 چیک پوسٹس)
- نوعیت: بیک وقت حملہ، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال
- نتیجہ:
▪️ 13 دہشتگرد ہلاک
▪️ کئی زخمی (فرار ہونے میں کامیاب)
▪️ 4 سیکیورٹی اہلکار شہید
▪️ 13 سیکیورٹی اہلکار زخمی - کارروائی: شدید جوابی فائرنگ اور سرچ آپریشن، اضافی دستے علاقے میں تعینات۔
🔹 فروری میں مجموعی اعداد و شمار:
- 156 دہشتگرد ہلاک
- 66 گرفتار
▪️ 50 گرفتاریاں سابقہ فاٹا علاقوں سے
▪️ 16 گرفتاریاں پنجاب سے - یہ تعداد دسمبر 2023 کے بعد سب سے زیادہ (دسمبر میں 139 دہشتگرد مارے گئے تھے)
🔔 اہم نکات:
- شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔
- سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشتگردی آپریشنز میں تیزی لائی ہے۔
- افغان سرحد سے دہشتگردوں کی دراندازی اور غیر ملکی مداخلت کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
- عوامی علاقوں میں خودکش حملے اور بارودی سرنگوں کے حملے بھی مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
- مقامی عمائدین اور قبائل کی ثالثی یا تعاون بھی ایک اہم آپشن کے طور پر ابھر رہا ہے، جیسے طورخم کے حالیہ واقعات میں دیکھا گیا۔
✅ تجزیہ:
- چیلنج: دہشتگردوں کا مربوط اور منظم حملہ آور ہونا، خاص کر بارڈر ایریاز میں۔
- مواقع: مقامی قبائل کی شمولیت، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور بارڈر مینجمنٹ کو مزید بہتر بنانا۔
- خطرات: سرحد پار سے دہشتگردوں کو پناہ ملنے کا سلسلہ، اور عوامی علاقوں میں بڑھتا خوف۔

