بلوچستان: کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں کی کارروائی، درجن سے زائد گیس باؤزر اور پولیس موبائل نذرِ آتش
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر خراب ہونے لگی ہے، پسنی اور اورماڑہ کے درمیان کوسٹل ہائی وے پر بزی ٹاپ کے مقام پر دہشت گردوں نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ناکہ بندی قائم کی اور ایک درجن سے زائد گیس باؤزر گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مسلح دہشت گردوں نے پولیس کی ایک موبائل وین کو بھی نذر آتش کر دیا۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے گاڑیوں کو روک کر حملہ کیا اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کو جلا کر نقصان پہنچایا، جب کہ اطلاع ملتے ہی فورسز کی بھاری نفری موقع پر روانہ کر دی گئی۔ تاہم حملے کے بعد دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، اور کچھ دیر بعد کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک بحال کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ایک روز قبل قلات میں قومی شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب خودکش حملے میں ایف سی کا ایک اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق حملہ قلات کے علاقے مغل زئی کے قریب ہوا اور ابتدائی تحقیقات میں خودکش حملہ آور کے خاتون ہونے کی تصدیق ہوئی۔ اسی طرح گزشتہ روز خضدار میں بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے دو رہنما جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔
بلوچستان میں بڑھتے ہوئے ان واقعات پر سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور فورسز نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔

