"نو آدر لینڈ”: فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے پر تنقید کرنے والی فلم کو آسکر میں بہترین ڈاکیومنٹری کا ایوارڈ
لاس اینجلس میں ہونے والے 97ویں اکیڈمی ایوارڈز میں اسرائیلی-فلسطینی دستاویزی فلم "No Other Land” نے بہترین ڈاکیومنٹری فلم کا اعزاز حاصل کر لیا۔ یہ فلم مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے "مسافر یطا” میں پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہے اور اسے اسرائیلی صحافی یووال ابراہام اور فلسطینی صحافی باسل عدرا نے مشترکہ طور پر بنایا ہے۔ یہ فلم بچپن سے ہی باسل عدرا کی ریکارڈ کردہ ویڈیوز پر مشتمل ہے، جن میں ان کے والد کو اسرائیلی فوجیوں اور آبادکاروں کے خلاف فلسطینی زمین کی حفاظت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس فلم نے گزشتہ برس برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (برلینالے) میں بھی بہترین ڈاکیومنٹری فلم کا ایوارڈ جیتا تھا۔ اس موقع پر فلم سازوں نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کی، جس پر جرمنی میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا اور انہیں "یہود مخالف” قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یووال ابراہام نے برلنالے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
"میں اس سرزمین پر جہاں چاہوں جا سکتا ہوں، مگر باسل اور لاکھوں فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے میں قید ہیں۔ ہمارے درمیان یہ نسلی امتیاز ختم ہونا چاہیے۔” جرمنی میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی پر سختیوں کے حوالے سے ابراہام نے کہا کہ جرمنی کی پالیسی دراصل ان اسرائیلیوں کے خلاف ہے جو قبضے کے خاتمے کے حامی ہیں اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ فلم کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے، لیکن امریکہ میں اسے تقسیم کار ادارے (ڈسٹری بیوشن) تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ تفریحی صنعت میں اسرائیل پر تنقید کو محدود کرنے کا رجحان بتایا جاتا ہے۔ مسافر یطا کے رہائشیوں کے لیے یہ فلم ان کی جدوجہد کی آواز بن چکی ہے۔ اسرائیلی حکام کئی دہائیوں سے یہاں کے تقریباً ایک ہزار فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس علاقے کو فوجی مشقوں کے لیے "فائرنگ زون” میں تبدیل کیا جا سکے۔ باسل عدرا نے بتایا کہ جرمنی میں تنازع کے بعد انہوں نے اپنی گاؤں میں فلم کی بڑی نمائش کا اہتمام کیا، کیونکہ مقامی لوگ اسے دیکھنے کے لیے بے حد پُرجوش تھے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں میں شدت آچکی ہے، اور مسافر یطا بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔
اقوام متحدہ: 2024 میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق، 2024 میں مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے تاریخ کے بدترین درجے پر پہنچ گئے۔ رپورٹ کے مطابق سال بھر میں 1,400 سے زائد واقعات پیش آئے جن میں جسمانی تشدد، آتش زنی، فلسطینی بستیوں پر حملے اور پھل دار درختوں کی تباہی شامل ہے۔ ان حملوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کی جانب سے سخت نقل و حرکت پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کو شہروں، قصبوں اور دیہاتوں تک رسائی محدود کر دی گئی۔ اس وقت مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار غیر قانونی طور پر قائم 300 بستیوں میں رہائش پذیر ہیں، جو 1967 کی جنگ کے بعد بنائی گئیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت ان علاقوں میں بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے۔ فلم "No Other Land” کے شریک ہدایتکار باسل عدرا نے کہا:
"ہمارے لیے یہ فلم مزاحمت کی ایک بنیادی شکل ہے اور ہم چاہتے تھے کہ جیسے ہی یہ مکمل ہو فوراً لوگوں تک پہنچے۔” دوسری جانب یووال ابراہام نے اسرائیلی معاشرے میں بڑھتے ہوئے انتہا پسند رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر ہمدردی کا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔
ابراہام نے مزید کہا:
"اسرائیل میں بائیں بازو کا وجود تو ہے مگر وہ سیاسی طور پر غائب ہو چکا ہے، اس کی آواز دبائی جا رہی ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر کے بعد تنقید کے لیے جگہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی سیاسی جماعتیں حتیٰ کہ عالمی عدالت کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر نشاندہی کے باوجود، اپنی فوج پر تنقید کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔

