لندن، 4 مارچ – سفری ریکارڈ اور ملازمت کے ڈیٹا کے جائزے کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران کئی سینئر روسی میزائل ماہرین نے ایران کا دورہ کیا، کیونکہ اسلامی جمہوریہ نے ماسکو کے ساتھ اپنے دفاعی تعاون کو مزید گہرا کیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق، سات ہتھیاروں کے ماہرین ماسکو سے تہران جانے والی دو پروازوں کے ذریعے 24 اپریل اور 17 ستمبر کو ایران پہنچے۔ ان دستاویزات میں گروپ کی دونوں بکنگز اور دوسری پرواز کے مسافروں کی فہرست شامل ہے۔
بکنگ ریکارڈز میں ان افراد کے پاسپورٹ نمبرز موجود ہیں، جن میں سے چھ کے پاسپورٹس کا سابقہ ”20″ تھا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ پاسپورٹس سرکاری ریاستی امور کے لیے جاری کیے گئے تھے اور انہیں غیر ملکی سرکاری دوروں پر موجود حکومتی عہدیداروں اور بیرونِ ملک تعینات فوجی اہلکاروں کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ یہ معلومات روسی حکومت کے ایک حکم نامے اور روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر موجود ایک دستاویز کے مطابق ہیں۔
رائٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ یہ سات افراد ایران میں کیا کر رہے تھے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ سال روسی میزائل ماہرین نے ایران کی مختلف میزائل فیکٹریوں کا دورہ کیا، جن میں دو زیرِ زمین تنصیبات بھی شامل تھیں۔ کچھ دورے ستمبر میں ہوئے۔ اس اہلکار نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی اور ان مقامات کی شناخت نہیں کی۔
ایک مغربی دفاعی اہلکار، جو روس کے ساتھ ایران کے دفاعی تعاون کی نگرانی کرتے ہیں، نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کچھ روسی میزائل ماہرین نے ستمبر میں بحیرۂ خزر کے ساحل پر ایرانی بندرگاہ امیرآباد سے 15 کلومیٹر مغرب میں واقع ایک میزائل اڈے کا دورہ کیا۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذکورہ اہلکاروں کے حوالے سے بیان کردہ روسی افراد وہی تھے جو ان دو پروازوں میں ایران پہنچے تھے۔
فوجی پسِ منظر اور مہارت
رائٹرز کے مطابق، شناخت شدہ سات روسی فوجی پسِ منظر رکھتے ہیں، جن میں سے دو کرنل اور دو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ روسی ڈیٹا بیس کے جائزے کے مطابق، جو شہریوں کے پیشوں اور کام کی جگہوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے، ان میں سے دو فضائی دفاعی میزائل نظام کے ماہر، تین توپ خانے اور راکٹری کے ماہر، جبکہ ایک جدید ہتھیاروں کی تیاری کا تجربہ رکھتا ہے اور ایک میزائل تجرباتی مرکز میں کام کر چکا ہے۔ تاہم، ان کے موجودہ عہدوں کی تصدیق ممکن نہیں تھی کیونکہ ملازمت سے متعلق یہ معلومات 2021 سے 2024 کے درمیان کی ہیں۔
یہ پروازیں ایسے وقت میں ہوئیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی، اور دونوں ممالک اپریل اور اکتوبر میں ایک دوسرے پر حملے کر چکے تھے۔
رائٹرز نے ان سات افراد سے فون پر رابطہ کیا: پانچ نے ایران جانے یا فوج کے لیے کام کرنے کی تردید کی، ایک نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، اور ایک نے فون بند کر دیا۔
ایران کی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب، جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے نگران ہیں، اور روسی وزارت دفاع نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
دفاعی تعاون اور یوکرین جنگ پر اثرات
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون نے پہلے ہی روس کی یوکرین میں جنگ پر اثر ڈالا ہے، جہاں ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز بڑی تعداد میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
میزائل اور راکٹری شعبے کے ماہرین
رائٹرز کو سات روسی افراد کی پرواز سے متعلق معلومات ایرانی حکومت مخالف ہیکرز کے گروپ "ہوشیارانِ وطن” نے فراہم کیں، جن کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد خصوصی سفری حیثیت (VIP) کے تحت سفر کر رہے تھے۔
رائٹرز نے ان معلومات کی تصدیق ستمبر کی پرواز کے روسی مسافر فہرست سے کی، جو ایک ایسے ذریعے نے فراہم کی تھی جسے روسی سرکاری ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل ہے۔ تاہم، اپریل کی پرواز کے مسافر فہرست دستیاب نہ ہونے کے سبب اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ کیا ان پانچ روسی ماہرین نے واقعی یہ سفر کیا تھا۔
دستاویزات کے مطابق، اپریل کی پرواز پر سفر کرنے والے پانچ افراد میں 48 سالہ ڈینس کالکو اور 46 سالہ وادیم مالوف شامل تھے۔ ٹیکس ریکارڈ کے مطابق، کالکو روسی وزارت دفاع کی ملٹری اینٹی ایئرکرافٹ ڈیفنس اکیڈمی میں کام کر چکا ہے، جبکہ 2024 کے کار رجسٹریشن ریکارڈ کے مطابق، مالوف ایک ایسی فوجی یونٹ میں خدمات انجام دے چکا ہے جو اینٹی ایئرکرافٹ میزائل فورسز کو تربیت دیتی ہے۔
دیگر مسافروں میں 45 سالہ آندرے گوسیف، 43 سالہ الیگزینڈر انتونوف، اور 54 سالہ مرات خوسینوف شامل تھے۔ گوسیف ایک لیفٹیننٹ کرنل ہے جو روسی وزارت دفاع کے پینزا آرٹلری انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ میں جنرل پرپز راکٹس اور آرٹلری ایمونیشن فیکلٹی کے ڈپٹی ہیڈ کے طور پر کام کر چکا ہے۔
انتونوف روسی وزارت دفاع کے مین راکٹ اور آرٹلری ڈائریکٹوریٹ میں کام کر چکا ہے، جبکہ بینک کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ خوسینوف، جو کہ ایک کرنل ہے، نے کاپستین یار میزائل ٹیسٹنگ رینج میں خدمات انجام دی ہیں۔
ستمبر کی پرواز کے مسافر
ستمبر کی پرواز کے دو مسافروں میں سے ایک 46 سالہ سرگئی یورچینکو تھا، جو ماضی میں راکٹ اور آرٹلری ڈائریکٹوریٹ میں کام کر چکا ہے۔ اس کا پاسپورٹ نمبر "22” سے شروع ہوتا تھا، جس کا مطلب غیر واضح ہے، لیکن یہ نجی شہریوں یا سفارت کاروں کے لیے مخصوص نہیں ہے۔
دوسرا مسافر 46 سالہ اولیگ فیڈوسوف تھا، جس کا پتا "ڈائریکٹوریٹ آف ایڈوانسڈ انٹر سروس ریسرچ اینڈ اسپیشل پروجیکٹس” کے دفتر کے طور پر درج تھا۔ یہ وزارت دفاع کا ایک شعبہ ہے جو مستقبل کے ہتھیاروں کی ترقی پر کام کرتا ہے۔
روس کے سرحدی ریکارڈ کے مطابق، فیڈوسوف اکتوبر 2023 میں بھی تہران سے ماسکو آیا تھا اور دونوں مواقع پر اس نے سرکاری ریاستی امور کے لیے مختص پاسپورٹ استعمال کیا تھا۔

