جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامینیتن یاہو پر اسرائیلی قیدی کے والد کی کڑی تنقید، غزہ میں...

نیتن یاہو پر اسرائیلی قیدی کے والد کی کڑی تنقید، غزہ میں جنگ بندی کی غیر یقینی صورتحال برقرار
ن

غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے مستقبل پر غیر یقینی کی صورتحال کے درمیان، ایک اسرائیلی قیدی کے والد نے پیر کے روز وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر سخت تنقید کی۔ یہ خبر انادولو نے دی ہے۔

الون نمرودی، جو اسرائیلی قیدی تمیر نمرودی کے والد ہیں، نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،
"ہم مذاکرات کے انتہائی نازک مرحلے میں ہیں، اور ہم ایسی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں جو ہمارے یرغمالیوں کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "ہم نے ماضی میں بھی ایسا کیا اور درجنوں یرغمالیوں کو کھو دیا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ یرغمالی امریکیوں اور دیگر غیر ملکی حکومتوں پر انحصار کر رہے ہیں، نہ کہ اپنی ہی اسرائیلی حکومت پر، جو اس معاملے میں ہم سے اختلاف رکھتی ہے۔ یہ ناقابل فہم بات ہے۔”

اسرائیلی فوج نے اتوار کے بعد سے غزہ بھر میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جو کہ غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے خاتمے کے فوراً بعد شروع ہوئے۔ قابض اسرائیلی حکومت نے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل بھی روک دی ہے کیونکہ نیتن یاہو نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ معاہدہ 19 جنوری کو اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی پر مبنی جنگ کو عارضی طور پر روکنے کے لیے طے پایا تھا۔ تاہم، اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک تقریباً 50,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ پورا علاقہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اسرائیل کے اندازے کے مطابق 59 یرغمالی اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں کم از کم 20 زندہ ہیں۔ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں ان قیدیوں کی رہائی متوقع تھی، جس کے بدلے میں اسرائیل کو اپنی افواج کو مکمل طور پر غزہ سے واپس بلانے اور جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کا پابند کیا جانا تھا۔

گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ علاوہ ازیں، اسرائیل بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں غزہ پر جنگ کے باعث نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین