فلسطینیوں کو مزاحمتی گروپ حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کی اشیاء ملیں، جو اکتوبر میں اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں جنوبی شہر رفح میں شہید ہوئے تھے۔
اشرف ابو طحہ، جن کے گھر میں سنوار نے پناہ لی اور اپنی آخری گھڑیاں گزاریں، نے بتایا کہ انہیں اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے سے سنوار کی فوجی تھیلی، ان کے لباس کے کچھ حصے اور ایک نارنجی رنگ کی کرسی، جس پر وہ زخمی حالت میں بیٹھے تھے، نکالنے میں دشواری ہوئی۔
ابو طحہ نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا، "میرے گھر میں سنوار کی شہادت میرے لیے فخر کا باعث ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، "سنوار کو تاریخ میں ہمیشہ ایک انقلابی رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔”
سنوار کی تھیلی پر اب بھی ان کے خون کے نشانات موجود ہیں، جبکہ کرسی ملبے کے نیچے سے پھٹی ہوئی ملی۔
ابو طحہ نے بیان کیا کہ ان کے گھر کے کھنڈر ایک "زیارت گاہ” کی شکل اختیار کر گئے ہیں، جہاں کئی فلسطینی اس مقام کو دیکھنے آتے ہیں جہاں سنوار نے اپنی آخری جنگ لڑی تھی۔
انہوں نے اس لمحے کو یاد کیا جب سنوار کی شہادت کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ ابو طحہ کے مطابق، انہیں متحدہ عرب امارات (UAE) میں مقیم اپنی بیٹی کی کال موصول ہوئی، جس نے اطلاع دی کہ حماس کے رہنما ان کے گھر میں شہید ہو چکے ہیں۔
اس وقت ابو طحہ کو اس خبر پر یقین نہیں آیا۔
سنوار کی شہادت کے بعد، اسرائیلی فوج نے فضائی حملے کے ذریعے ابو طحہ کے گھر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

