جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل نے "سینوار" کو دہشت گرد قرار دینے سے انکار پر اسکولوں...

اسرائیل نے "سینوار” کو دہشت گرد قرار دینے سے انکار پر اسکولوں کے AI نظام کو بند کر دیا
ا

اسرائیل کے وزیر تعلیم یوآو کیش نے جمعہ کے روز ریاستی مذہبی تعلیمی نظام میں نافذ کردہ مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس معطلی کی وجہ اس نظام کے استعمال کے دوران سامنے آنے والے "متعدد شکایات اور مسائل” بتائی گئی ہے۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ "وائی نیٹ” کے مطابق، ریاستی مذہبی تعلیمی نظام میں AI انجن کو عام ریاستی تعلیمی نظام سے مختلف انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ مذہبی تعلیمی ڈھانچے کی منفرد ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

وزیر تعلیم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس نظام کو معطل کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اس پلیٹ فارم کو جانچنے والے اساتذہ اور والدین نے نامناسب تصاویر اور مواد کی موجودگی کی شکایت کی۔

"ایک اہم شکایت، جس نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کی، اس نظام کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو سے متعلق تھی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ آیا باروخ گولڈسٹین ایک دہشت گرد تھا، تو نظام نے جواب دیا کہ اس کے اقدامات دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم، جب اس سے پوچھا گیا کہ آیا 7 اکتوبر کو یحییٰ سنوار کے اقدامات کو بھی دہشت گردی سمجھا جانا چاہیے، تو اس نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال ‘سیاسی نوعیت’ کا ہے۔”

باروخ گولڈسٹین ایک سخت گیر یہودی آباد کار تھا، جس نے 25 فروری 1994 کو مقبوضہ الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد میں فجر کی نماز کے دوران گھس کر 29 مسلمان نمازیوں کو قتل اور 150 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

یحییٰ سنوار فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کا سربراہ تھا، جو گزشتہ سال غزہ میں لڑائی کے دوران مارا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین