حالیہ دنوں میں کوئٹہ سے دیگر شہروں کے لیے فضائی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ عام دنوں میں 16 سے 18 ہزار روپے میں دستیاب ٹکٹ اب 98 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے، جس سے مسافروں پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
کرایوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ کوئٹہ سے روانہ ہونے والی پروازوں کی محدود تعداد ہے۔ نجی ایئرلائنز کے کوئٹہ کے لیے کم پروازیں چلانے کے باعث مسافروں کے پاس متبادل آپشنز کم ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں طلب اور رسد کے عدم توازن نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، بلوچستان میں احتجاج اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث اہم شاہراہیں اکثر بند رہتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ فضائی سفر کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایئر لائنز نے کرایے مزید بڑھا دیے ہیں۔
ریلوے کا محدود انفراسٹرکچر بھی فضائی سفر پر انحصار میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ اس وقت کوئٹہ سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے روزانہ صرف ایک ٹرین چلتی ہے، جبکہ کراچی کے لیے ہفتے میں دو مرتبہ سروس دستیاب ہے۔ محدود سفری سہولیات کے باعث شہریوں کے پاس ہوائی سفر کے علاوہ کوئی دوسرا تیز تر متبادل نہیں بچا۔ اس کے علاوہ، نجی ایئرلائنز کی اجارہ داری بھی ایک اہم عنصر ہے۔ فلائی جناح واحد فضائی کمپنی ہے جو کوئٹہ سے کراچی کے لیے روزانہ پرواز چلا رہی ہے، جبکہ دیگر ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کے پاس انتخاب کا فقدان پیدا ہو گیا ہے اور کرایے بے قابو ہو گئے ہیں۔
بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر احتجاج اور مظاہروں میں اضافے کی وجوہات میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف مزاحمت شامل ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق، لوگوں نے عدالتوں اور پریس کلبز پر دو دہائیوں تک پرامن احتجاج کیا، لیکن ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے، جس کے باعث وہ سڑکیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مؤقف ہے کہ پورے پاکستان میں لوگ انصاف کے حصول کے لیے شاہراہوں پر احتجاج کرتے ہیں، کیونکہ ریاستی ادارے ان کی فریاد سننے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب، حکومت بلوچستان اس مؤقف سے متفق نہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج لوگوں کا آئینی حق ہے، مگر احتجاج کا مقام حکومت اور انتظامیہ طے کرے گی۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فضائی کرایوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف محکمہ ہوا بازی کو مراسلہ بھیجا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام بڑی ایئرلائنز کو کوئٹہ تک اپنی پروازیں توسیع دینے کا پابند بنایا جائے، تاکہ اجارہ داری ختم ہو اور مسابقتی ماحول پیدا ہو۔ چیمبر نے مطالبہ کیا ہے کہ کرایہ 17 ہزار روپے مقرر کیا جائے اور ہنگامی سفری حالات میں زیادہ سے زیادہ 25 ہزار روپے تک محدود رکھا جائے۔ اس کے علاوہ، وزارت ہوا بازی سے ایسی پالیسی بنانے کی درخواست کی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی ایئرلائن کوئٹہ کے لیے اچانک اپنی پروازیں بند نہ کر سکے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے بھی کرایوں میں بے تحاشہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے وزیر اعظم کو خط تحریر کیا ہے۔ ان کے مطابق، بلوچستان میں چھ ماہ سے شاہراہوں کی بندش کے مسئلے کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ متبادل ذرائع، بالخصوص فضائی سفر پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں کرایوں میں بے تحاشہ اضافے نے کوئٹہ سے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے لیے یکطرفہ سفر کو بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ حکومت نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ کرایوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اقدامات کریں، تاکہ بلوچستان کے عوام کے لیے فضائی سفر ممکن بنایا جا سکے۔

