جمعرات, فروری 12, 2026
ہوممضامینتائی چی، قدیم مارشل آرٹ سے جدید فلاح و بہبود تک

تائی چی، قدیم مارشل آرٹ سے جدید فلاح و بہبود تک
ت

چین کے اواخرِ مین اور اوائلِ چِنگ خاندان کے ادوار میں جڑیں رکھنے والی تائی چی اپنی 400 سالہ تاریخ میں ایک جنگی فن سے ترقی کرتے ہوئے دنیا بھر میں جسمانی و ذہنی صحت کے لیے اپنائے جانے والے طرزِ زندگی میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس فن کی شاندار تاریخ نے پانچ بڑے مکاتبِ فکر کو جنم دیا: چن، یانگ، وو (یو شیانگ)، وو (چُواین یو) اور سن – جو اپنے بانیوں کے خاندانی ناموں سے منسوب ہیں۔ اگرچہ ان کے انداز اور تکنیک میں فرق پایا جاتا ہے، مگر سب کا مشترکہ مقصد جسم و ذہن میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

یانگ طرزِ تائی چی کے ساتویں نسل کے وارث، ژانگ ڈونگ یوان، نے 24 سال کی عمر میں اس فن کی تربیت حاصل کی اور اب اس کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔

کبھی صرف بزرگوں کی سرگرمی سمجھی جانے والی تائی چی اب ہر عمر کے افراد میں مقبول ہو چکی ہے۔ اس کی کم اثر والی مشقیں اور سائنسی طور پر ثابت شدہ فوائد، جیسے ذہنی دباؤ میں کمی، لچک میں اضافہ، اور دماغی وضاحت، نوجوانوں کو بھی اس کی طرف راغب کر رہے ہیں۔

مقبول ثقافت، خصوصاً فلمیں جیسے "دی تائی چی ماسٹر”, نوجوان نسل کی دلچسپی کو مزید بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں یہ فن محض مراقبہ کا طریقہ ہی نہیں بلکہ ایک متحرک ثقافتی علامت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

بیجنگ میں واقع ٹیمپل آف ہیون – جو ایک یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ اور سیاحتی مرکز ہے – میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے پُرسکون صحنوں اور سرو کے سائے میں لپٹے راستوں پر تائی چی کے شائقین روزانہ جمع ہوتے ہیں، جن کی ہم آہنگ حرکات ایک زندہ شاہکار تخلیق کرتی ہیں، جو اس فن کی جدید زندگی میں ابدی معنویت کو اجاگر کرتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین