شمالی اور جنوبی کیرولائنا میں جنگلاتی آگ شدت اختیار کر گئی ہے، جس کی لپیٹ میں شمالی کیرولائنا کا ایک کاؤنٹی بھی آ چکا ہے، اور متعدد علاقوں سے مکینوں کو انخلا پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
اتوار کے روز، شمالی اور جنوبی کیرولائنا میں بھڑکنے والی ان جنگلاتی آگ نے امریکی ریاستوں کے کئی علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا کر دی، جس کے نتیجے میں مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ایمرجنسی عملہ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور کیرولائنا فاریسٹ کے علاقے میں کسی حد تک پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ کے پھیلاؤ میں مدد دی، جس کی وجہ سے دونوں ریاستیں متاثر ہو رہی ہیں۔
جنوبی کیرولائنا کے گورنر ہنری مک ماسٹر نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فائر فائٹرز کی مدد کے لیے اضافی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اور جنگل میں آگ لگانے پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ اتوار کی دوپہر تک میرتل بیچ کے علاقے میں انخلا کے احکامات بھی واپس لے لیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، جنوبی کیرولائنا میں 175 سے زائد مقامات پر لگی آگ نے تقریباً 17 مربع کلومیٹر رقبہ جلا دیا۔ تاحال کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، اور نہ ہی کوئی عمارت تباہ ہوئی ہے۔
دوسری جانب، شمالی کیرولائنا کے پولک کاؤنٹی میں واقع ٹرایون (Tryon) نامی قصبے کے لیے انخلا کے احکامات بدستور نافذ ہیں، جیسا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے رپورٹ کیا ہے۔
پولک کاؤنٹی ایمرجنسی مینجمنٹ اور فائر مارشل کے دفتر کے مطابق، کاؤنٹی میں تقریباً 2 مربع کلومیٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور اس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
تاحال حکام درجنوں آگ لگنے کی وجوہات کے حوالے سے کوئی مؤقف پیش نہیں کر سکے۔

