جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانمیانوالی منشیات کا گیٹ وے بن گیا

میانوالی منشیات کا گیٹ وے بن گیا
م

میانوالی منشیات کا گیٹ وے بن گیا

ایک وقت تھا جب ہیروئن، چرس اور افیون سب سے زیادہ تشویش ناک منشیات سمجھی جاتی تھیں، مگر اب پنجاب، خصوصاً میانوالی میں، ان کی جگہ مزید خطرناک اور جان لیوا نشہ آور اشیاء جیسے کرسٹل میتھ (جسے عام طور پر "آئس” کہا جاتا ہے) اور "گابیکا” کیپسول نے لے لی ہے۔منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافے کے باوجود متعلقہ ادارے بےحسی کا شکار نظر آتے ہیں اور مؤثر کارروائی سے گریزاں ہیں۔

آئس کو ہیروئن کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور اور خطرناک نشہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ جسمانی قوت کو غیرمعمولی طور پر بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں نشے کے عادی افراد بغیر کسی ہچکچاہٹ کے قتل جیسے سنگین جرائم بھی انجام دے سکتے ہیں۔ جرائم پیشہ گروہ نوجوانوں کو نشے کا عادی بنا کر اپنے غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ کرسٹل میتھ (آئس) دماغ اور جسم کے درمیان پیغام رسانی کے عمل کو تیز کر دیتی ہے۔ یہ پاؤڈر کی شکل میں دستیاب میتھ (جسے "سپیڈ” کہا جاتا ہے) سے کہیں زیادہ طاقتور اور نقصان دہ ہے۔ آئس عام طور پر چھوٹے شفاف کرسٹلز یا سفید سے بھورے رنگ کے کڑوے ذائقے والے پاؤڈر کی شکل میں ہوتی ہے۔ اسے سگریٹ کے ذریعے، انجیکشن کے ذریعے، کھا کر یا سونگھ کر استعمال کیا جاتا ہے، جن میں سگریٹ اور انجیکشن کے ذریعے اثر فوری ہوتا ہے۔

آئس کا نشہ بارہ گھنٹے تک رہ سکتا ہے، جو سرور، خود اعتمادی اور توانائی میں اضافے کا احساس دیتا ہے، مگر اس کے مضر اثرات میں حد سے زیادہ پسینہ آنا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، منہ کا خشک ہونا اور بھوک کا ختم ہونا شامل ہیں۔ میانوالی، جو تین اطراف سے خیبر پختونخوا سے ملتا ہے، منشیات کی اسمگلنگ کے لیے پنجاب، پاکستان اور دیگر علاقوں میں جانے کا ایک بڑا راستہ بن چکا ہے۔

خواتین، بچوں اور نوجوانوں میں نشے کے بڑھتے ہوئے استعمال نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ضلع پولیس آفیسر (ڈی پی او) اختر فاروق چوہدری کا کہنا ہے کہ عوام کے تعاون سے پولیس اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین