کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سر فراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہے، لیکن دہشت گردوں کو تین گھنٹے سے زیادہ کسی بھی علاقے پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اتوار کے روز کوئٹہ میں پی ڈی ایم اے آفس میں رمضان ریلیف پروگرام کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے بھر میں 2 لاکھ 50 ہزار خاندانوں کو 48 کلو گرام کے راشن بیگز فراہم کیے جا رہے ہیں، اور تمام کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ راشن کی شفاف تقسیم کو یقینی بنائیں اور اراکین اسمبلی کی مشاورت سے عمل مکمل کریں۔وزیراعلیٰ بگٹی نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں مالی امداد براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کا کامیاب نظام ہے، لیکن بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بینکوں سمیت جدید سہولیات کی کمی کے باعث یہ طریقہ کار مؤثر نہیں۔ احتجاج اور سڑکوں کی بندش سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر قومی شاہراہوں کی بندش ناقابلِ قبول ہے کیونکہ اس سے مریضوں، بزرگوں اور عوام کو شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ حکومت سڑکیں کھلوانے اور اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جیسا کہ گوادر میں بھی کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں مولانا فضل الرحمٰن اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب کی تنقید کے جواب میں بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال واقعی تشویشناک ہے، لیکن عمر ایوب محمود خان اچکزئی سے مشورے کے بغیر کسی ایک گلی کا نام بھی بتا دیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس (ایپکس کمیٹی) طلب کیا گیا ہے، جس میں حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی، اور کارکردگی نہ دکھانے والے ڈپٹی کمشنرز کو فوری ہٹا دیا جائے گا۔
لاپتہ افراد کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بگٹی نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، اور ممکن ہے کہ سڑکیں بند کرنے والے بعض عناصر اس معاملے کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے قانون میں ترامیم کر رہی ہے، تاکہ ایسے مراکز قائم کیے جائیں جہاں لاپتہ افراد کو رکھا جا سکے اور ان کے اہل خانہ ملاقات کر سکیں۔ یہ ترمیم قومی اسمبلی سے منظور ہو چکی ہے اور جلد سینیٹ سے بھی منظوری متوقع ہے شہزاد مری کی گرفتاری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت نے بلوچستان میں اس کی تلاش کے لیے مدد مانگی تو بھرپور تعاون کیا جائے گا، لیکن فی الحال ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے نوابزادہ خالد مگسی کے حالیہ بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال واقعی مثالی نہیں اور سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے لیویز اور پولیس کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔ بگٹی نے کہا کہ حکومت سمارٹ حکمتِ عملی کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے وفاقی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے "بی ایریاز” کو "اے ایریاز” میں اپ گریڈ کرنے کی بھی بات کی تاکہ حکمرانی اور سیکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کوئی نیا مسئلہ نہیں، 2009 اور 2010 میں بھی حالات ایسے تھے، مگر حکومت منظم حکمتِ عملی سے ان چیلنجز پر قابو پا لے گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے اضافے کی وجہ سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو قرار دیا، جس میں ٹی ٹی پی کے ساتھ نرمی برتی گئی اور کئی کمانڈرز کو رہا کیا گیا جنہوں نے دوبارہ کیمپ قائم کیے۔
بگٹی نے کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد اسلحے کی آمد نے بھی حالات خراب کیے ہیں اور اب دہشت گرد تھرمل ٹیکنالوجی استعمال کر کے دو کلومیٹر دور سے حملے کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ "بلوچستان بہت بڑا صوبہ ہے، اگر کسی کے پاس دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی درست معلومات ہیں تو ہمیں آگاہ کیا جائے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی بھی بلوچستان کی تشویشناک سیکیورٹی صورتحال سے انکار نہیں کیا، لیکن اپوزیشن کے مبالغہ آمیز بیانات پر تنقید کی، جن میں بعض اضلاع کی آزادی کی باتیں کی گئیں مگر کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

