جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیرپورٹ , اسرائیلی فوجیوں نے غزہ، لبنان اور شام سے بڑی مقدار...

رپورٹ , اسرائیلی فوجیوں نے غزہ، لبنان اور شام سے بڑی مقدار میں لوٹ مار کی
ر

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ "وائی نیٹ” کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے شام، لبنان اور غزہ سے لاکھوں ڈالر نقدی، سونے کی اینٹیں، قیمتی زیورات اور 1,83,000 سے زائد ہتھیار لوٹے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لوٹ مار اس قدر وسیع پیمانے پر ہوئی کہ فوجی آپس میں مذاق کرتے ہوئے کہتے تھے کہ مال اٹھا اٹھا کر ان کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ زیادہ تر لوٹ مار خصوصی فوجی یونٹوں کے ذریعے کی گئی جو دشمن علاقوں سے پیسہ اور دیگر قیمتی سامان ضبط کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، لیکن انفرادی سطح پر بھی فوجیوں کی جانب سے ذاتی لوٹ مار عام رہی ہے۔ وائی نیٹ کے مطابق شام، لبنان اور غزہ میں جاری حملوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے اتنے زیادہ ہتھیار قبضے میں لے لیے ہیں کہ ان سے ایک چھوٹی فوج تیار کی جا سکتی ہے۔

اس میں مختلف قسم کے میزائل، ڈرونز، جدید اینٹی ٹینک میزائل، ہزاروں دھماکہ خیز آلات، ہزاروں معیاری رائفلیں (جن میں کچھ بالکل نئی اور پیکنگ میں بند تھیں)، اسنائپر رائفلیں، فوجی مواصلاتی آلات، کمپاس، دوربینیں، نائٹ وژن کے آلات، وردیاں، جوتے، درجنوں گاڑیاں اور یہاں تک کہ نایاب نوادرات بھی شامل ہیں، جیسے 1930 کی دہائی کی فرانسیسی رائفلیں اور حزب اللہ کے اہلکاروں کے زیر استعمال قیمتی اور نایاب پستول۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں لوٹ مار میں حصہ لینے والے ایک اسرائیلی افسر، جنہیں "اے” کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، نے بتایا کہ بعض دیہات میں گاڑیوں کا استعمال ممکن نہیں تھا، اس لیے فوجیوں نے چوری شدہ سامان پیدل لے جا کر منتقل کیا۔انہوں نے کہا:
"شروع میں ہم رات کے وقت میزائل، ہتھیار اور گولہ بارود کے کریٹ اپنی پیٹھ پر اٹھا کر اسرائیل واپس لے جاتے تھے، لیکن جلد ہی یہ بہت زیادہ ہو گیا۔ واقعی ہماری کمر توڑ دی۔ حالانکہ ہمارے لوگ بہت مضبوط ہیں۔” رپورٹ کے مطابق، یہ بھاری مقدار میں لوٹا گیا سامان اب اسرائیل بھر میں درجنوں گوداموں اور محفوظ تہہ خانوں میں ذخیرہ کر لیا گیا ہے، جن میں سے کچھ خفیہ ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل ان اشیاء کے ساتھ کیا کرے گا۔ سیاسی سطح پر اس بات پر بھی بحث ہوئی ہے کہ اس سامان کے کچھ حصے کو روس کے خلاف جنگ کے لیے یوکرین بھیجا جائے، لیکن یہ خیال فی الحال ترک کر دیا گیا ہے، خاص طور پر شام میں روس کے مفادات کے حوالے سے اسرائیل کی غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کی خواہش کی وجہ سے۔ اس کے علاوہ، یوکرین کی جنگ کی بڑی نوعیت کے مقابلے میں یہ مالِ غنیمت بہت کم ہے، جہاں پہلے ہی امریکہ اور کئی یورپی ممالک مدد فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے یہ تصدیق نہیں کی کہ آیا اس نے ضبط شدہ دھماکہ خیز مواد کو اپنی انجینئرنگ فورسز کے استعمال کے لیے دوبارہ تیار کیا ہے یا نہیں، لیکن اس آئیڈیا پر تجربہ ضرور کیا جا رہا ہے تاکہ دھماکہ خیز آلات کی شدید مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ لیفٹیننٹ کرنل شیرون-کاتزلر، جو لوٹ مار کی ذمہ دار یونٹ کا حصہ ہیں، نے کہا کہ چوری شدہ سامان کو اسرائیلی افواج کے لیے مؤثر بنانے کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا:
"مثال کے طور پر، 7 اکتوبر کو مغربی نیگیو میں حماس کے حملے کے بعد، ہم نے ان کے استعمال کیے گئے دھماکہ خیز آلات کا مطالعہ کیا اور اس کے مطابق اپنے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں مضبوط بنائیں۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین