قاہرہ، 2 مارچ (رائٹرز) – اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے رمضان اور پاس اوور کے دوران غزہ میں عارضی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرے گا، یہ اعلان ایسے وقت میں آیا جب پہلے سے طے شدہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے قریب تھا۔ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق، وٹکوف کے منصوبے کے پہلے دن غزہ میں موجود آدھے مغوی (زندہ اور جاں بحق دونوں) رہا کیے جائیں گے، جبکہ باقی مغویوں کی رہائی مستقل جنگ بندی کے معاہدے کے بعد عمل میں آئے گی۔ نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ وٹکوف نے یہ تجویز اس لیے دی کیونکہ مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار تھا۔ دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ہفتے کے روز کہا کہ گروپ نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع کے اسرائیلی "فارمولے” کو مسترد کر دیا ہے، تاہم انہوں نے وٹکوف کے منصوبے کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا کہ اگر حماس اس منصوبے پر رضامند ہو جاتی ہے تو اسرائیل فوری طور پر وٹکوف کے منصوبے پر مذاکرات کرے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے مزید کہا کہ معاہدے کے مطابق اسرائیل 42ویں دن کے بعد دوبارہ جنگ شروع کر سکتا ہے اگر اسے محسوس ہو کہ مذاکرات مؤثر نہیں رہے، اور ساتھ ہی حماس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔
دو فلسطینی حکام، جو مذاکرات سے واقف ہیں، نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے یا اس پر مذاکرات شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اس کے بجائے، اسرائیل نے پہلے مرحلے میں توسیع کی درخواست کی، جس کی شرط یہ رکھی گئی کہ ہر ہفتے کی توسیع کے بدلے زندہ قیدیوں اور لاشوں کی حوالگی ہو۔ تاہم، حماس نے اس شرط کو مسترد کر دیا اور معاہدے پر عمل کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے اور اسرائیل کو طے شدہ نکات پر عمل درآمد کا پابند بنانے پر زور دیا۔ ہفتے کے روز حماس کے مسلح ونگ نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں دکھایا گیا کہ اسرائیلی مغوی اب بھی غزہ میں اس کی تحویل میں ہیں، اور یہ مؤقف دہرایا کہ باقی مغویوں کی رہائی صرف قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ہی ممکن ہے، جیسا کہ 19 جنوری سے شروع ہونے والے مرحلہ وار جنگ بندی معاہدے میں طے کیا گیا تھا۔
یہ جنگ بندی معاہدہ 15 ماہ سے جاری لڑائی کو روکنے کا باعث بنا، جس کے تحت 33 اسرائیلی مغویوں اور پانچ تھائی شہریوں کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدی اور حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد مزید بات چیت کی راہ ہموار کرنا تھا تاکہ جنگ بندی کو مستحکم کیا جا سکے۔جنگ بندی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جن کا حالیہ دور قاہرہ میں ہوا، تاہم یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکی۔

