روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بیلاروس کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کی توثیق کر دی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور منسک کو ماسکو کی جوہری دفاعی حکمت عملی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ، جس پر دسمبر میں منسک میں یونین اسٹیٹ کی سپریم اسٹیٹ کونسل کے اجلاس میں اتفاق ہوا تھا اور جمعہ کے روز اسے باقاعدہ قانون کی شکل دی گئی، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا پابند بناتا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی بھی جارحیت کی صورت میں بیلاروس کے دفاع کے لیے روسی جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
روس کی سینیئر رہنما والینٹینا ماٹویینکو نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر یہ معاہدہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ یکطرفہ پابندیوں کے خلاف دفعات بھی شامل کرتا ہے اور اس کی مدت دس سال ہے، جو خودکار طریقے سے مزید توسیع پاتی رہے گی۔ معاہدے کی ایک اہم شق کے تحت روس کو بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار تعینات کرنے کی اجازت ہے۔ روس پہلے ہی بیلاروس میں بیلسٹک میزائل نصب کر چکا ہے، اور معاہدے کے مطابق، بیلاروس ضرورت محسوس ہونے پر ان کے استعمال کی درخواست کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک روس کے جوہری ہتھیاروں کو خطرات کے خلاف ایک روک تھام سمجھتے ہیں، جنہیں صرف انتہائی مجبوری میں استعمال کیا جانا ہے۔ معاہدے پر دستخط کے بعد، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے روسی "اوریشنک” درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تعیناتی کی درخواست کی۔ صدر پیوٹن کے مطابق، ان نئے سسٹمز کو، جن میں ہائپرسانک اپر اسٹیج شامل ہے، 2025 کی دوسری ششماہی میں بیلاروس میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ "اوریشنک” میزائل سسٹم کو گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا اور یوکرین میں اس کا تجربہ کیا گیا، جہاں نومبر میں اسے دنیپرو کے "یوژماش” ملٹری انڈسٹریل فیکٹری کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
سینئر رکن پارلیمنٹ ویچسلاو وولودین نے کہا کہ "معاہدے کی دفعات خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنائیں گی، خاص طور پر ان حالات میں جب بیلاروس کی سرحد سے ملحق یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات ہو رہے ہیں۔” روس اور بیلاروس نے ستمبر 2025 میں مشترکہ فوجی مشق "زاپاد 2025” کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 13,000 سے زائد فوجی اہلکار حصہ لیں گے۔ اس مشق کی نگرانی کے لیے یورپی تنظیم برائے سلامتی و تعاون (OSCE) کو مدعو کیا گیا ہے۔
صدر لوکاشینکو نے روس کو بیلاروس کی سرزمین پر فوجی کارروائیوں کے استعمال اور ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار تعینات کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے فروری میں دعویٰ کیا تھا کہ بیلاروس میں روسی فوجی نقل و حرکت، جو نیٹو کے رکن ممالک لٹویا، لیتھوانیا اور پولینڈ کے قریب ہے، کسی ممکنہ حملے کی تیاری ہو سکتی ہے۔ تاہم، روس نے نیٹو ممالک پر حملے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ گزشتہ ستمبر میں، صدر پیوٹن نے روس کی جوہری دفاعی پالیسی (Foundations of State Policy of the Russian Federation in the Area of Nuclear Deterrence) میں ترامیم کا اعلان کیا تھا۔ نظرثانی شدہ دستاویز کے مطابق، مخصوص حالات میں روس کسی پراکسی جنگ کو بھی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا جواز قرار دے سکتا ہے۔

