جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل کو 3 ارب ڈالر کے ہنگامی امریکی اسلحہ معاہدے، جنگ بندی...

اسرائیل کو 3 ارب ڈالر کے ہنگامی امریکی اسلحہ معاہدے، جنگ بندی پر خدشات برقرار
ا

امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل کو تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے بموں، دھماکہ خیز کٹس اور دیگر اسلحے کی فروخت کی ممکنہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اسلحے کی فروخت ہنگامی بنیادوں پر کانگریس کو مطلع کی گئی، جس کے تحت روایتی طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے براہِ راست اطلاع دی گئی۔

فروخت میں 35,529 عام استعمال کے 2,000 پاؤنڈ وزنی بموں کے اجسام اور 4,000 بنکر شکن بم شامل ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق، ان کی ترسیل 2026 میں متوقع ہے، تاہم، امکان ہے کہ کچھ اسلحہ امریکی ذخائر سے فوری طور پر فراہم کر دیا جائے۔ ایک اور معاہدے کے تحت 67.5 کروڑ ڈالر مالیت کے 5,000 ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم اور ان کے رہنمائی کے لیے ضروری کٹس فراہم کی جائیں گی، جس کی ترسیل 2028 میں متوقع ہے۔

ایک تیسرے معاہدے میں 2.95 کروڑ ڈالر مالیت کے بُلڈوزر شامل ہیں۔ یہ دوسرا موقع ہے جب حالیہ مہینے میں امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کو اسلحے کی فوری فروخت کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کیے ہیں۔ مزید برآں، ایک حالیہ فیصلے کے تحت اب امریکی اتحادیوں کو فراہم کیے گئے اسلحے کے ممکنہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹنگ کی ضرورت بھی ختم کر دی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں 15 ماہ سے جاری لڑائی رک گئی تھی، جس کے بعد جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ اس معاہدے کے تحت 44 اسرائیلی یرغمالیوں اور تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔ تاہم، دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جس کے باعث معاہدے کے دوسرے مرحلے پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جو مزید یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور جنگ کے مستقل خاتمے کے اقدامات پر مشتمل ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین