جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیچین کے مریخ روور نے قدیم پانی کے شواہد کی تلاش میں...

چین کے مریخ روور نے قدیم پانی کے شواہد کی تلاش میں حیرت انگیز دریافت کی
چ

نئی تحقیق کے مطابق، مریخ پر 3.6 ارب سال قبل ایک سمندر موجود ہو سکتا تھا، جس کی لہریں ریتیلے ساحلوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ چین کے زُورونگ روور نے، جو مئی 2021 سے مئی 2022 تک فعال رہا، اپنے زمینی-ریڈار کے ذریعے ان قدیم ساحلی خطوط کا پتہ لگایا۔

یہ روور "یوٹوپیا پلانیٹیا” پر اترا، جو مریخ کے سب سے بڑے تصادم بیسن میں واقع ایک وسیع میدان ہے، اور سیارے کے شمالی نصف کرے میں موجود ایک سلسلہ نما خطوں کے قریب ہے۔ سائنس دان طویل عرصے سے یہ سوال اٹھاتے آ رہے ہیں کہ آیا یہ سلسلے کسی قدیم ساحل کے نشانات ہیں۔ چنانچہ زُورونگ کو قدیم پانی کے شواہد تلاش کرنے کے لیے روانہ کیا گیا۔

یہ تحقیق، جس میں زُورونگ کے ریڈار ڈیٹا کی مدد سے مریخ کی سطح کے نیچے چھپے چٹانی تہوں کا تجزیہ کیا گیا، حالیہ دنوں میں شائع ہوئی۔

سمندری ساحل اور قدیم ماحولیاتی حالات
تحقیق کے شریک مصنف، پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے جیولوجی پروفیسر بینجمن کارڈیناس کے مطابق، مریخ پر ایسی جگہیں دریافت ہو رہی ہیں جو قدیم ساحلوں اور دریائی ڈیلٹاؤں سے مشابہت رکھتی ہیں۔ "ہم نے ہوا، لہروں اور ریت کی کوئی کمی نہیں پائی— بالکل ایک تفریحی ساحل جیسا منظرنامہ۔”

یہ بھی ممکن ہے کہ مریخ کا ماحول ماضی میں تصور کیے گئے مقابلے میں کروڑوں سال زیادہ عرصے تک گرم اور نم رہا ہو۔ ان نتائج سے اس نظریے کو مزید تقویت ملتی ہے کہ مریخ کبھی زیادہ گرم اور مرطوب تھا، اور اس کی ایک تہائی سطح پر سمندر موجود تھا— ایک ایسا ماحول جو زندگی کے لیے سازگار ہو سکتا تھا۔

مریخ کے قدیم سمندر کی تلاش
1970 کی دہائی میں ناسا کے میرینر 9 اور وائکنگ 2 مشنز نے مریخ پر ایسے نشانات کا مشاہدہ کیا جو قدیم سمندر کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے تھے۔

یوٹوپیا پلانیٹیا کا تعلق 3.7 ارب سے 3 ارب سال پہلے کے ہیسپیرین دور سے ہے، اور یہاں ٹھہرے ہوئے پانی کے واضح شواہد نسبتاً کم ہیں، جیسا کہ آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی کے سیاروی سائنس دان ڈاکٹر آرون کاووسی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، "1970 کی دہائی میں مریخ کی سطح پر بڑے وادی نما راستے دریافت کیے گئے تھے، لیکن عمومی طور پر انہیں زیرِ زمین پانی کے دھماکہ خیز اخراج کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ کسی مستقل پانی کی موجودگی کا ثبوت۔”

مختلف خلائی مشنز کے مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ مریخ کا بیشتر پانی خلا میں ضائع ہو گیا، کیونکہ اس کا کرۂ ہوائی بتدریج غائب ہوتا چلا گیا۔ سائنس دان اب بھی اس تبدیلی کی وجوہات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

وائکنگ مشن کی تصاویر میں مریخ کے شمالی نصف کرے میں ایک غیر ہموار ساحلی لکیر دیکھی گئی تھی، جو زمین کے سیدھے ساحلوں کے برعکس، 10 کلومیٹر تک کی بلندی کے فرق کے ساتھ بے ترتیب تھی۔

تحقیق کے شریک مصنف مائیکل مانگا، جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلی میں سیاروی سائنس کے پروفیسر ہیں، کا ماننا ہے کہ اس عدم توازن کی وجہ آتش فشانی سرگرمیاں اور مریخ کے گردش محور میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ "چونکہ مریخ کا محور بدلا، اس کی شکل بھی بدلی، جس کے نتیجے میں جو پہلے ہموار تھا، وہ اب غیر ہموار ہو گیا۔”

ساحلی ڈھلان اور ریتیلے نشانات
زُورونگ روور نے جب یوٹوپیا پلانیٹیا میں حرکت کی، تو اس نے اپنی ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد سے سطح کے 80 میٹر نیچے تک کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔

10 سے 35 میٹر کی گہرائی پر، ریڈار نے ایسی تہہ در تہہ ساختیں دریافت کیں جو زمین پر ساحلی علاقوں سے مشابہت رکھتی ہیں، اور 14.5 ڈگری کے زاویے پر جھکی ہوئی تھیں۔

مائیکل مانگا کے مطابق، "یہ ساختیں نہ تو ریت کے ٹیلے لگتی ہیں، نہ کسی تصادم گڑھے کی باقیات، اور نہ ہی آتش فشانی لاوے کے بہاؤ کا حصہ۔ جب ہم نے ان کی ترتیب دیکھی، تو ہمیں سمندر کے امکانات کا خیال آیا۔”

یہ تہیں زمین کے خلیج بنگال جیسے ساحلی علاقوں میں پائی جانے والی رسوبی چٹانوں سے مماثل ہیں، جو مستحکم سمندری موجودگی کے دوران بنتی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ روور نے ایسی "ساحلی رسوبات” دریافت کی ہیں، جو لاکھوں سالوں میں لہروں اور مدوجزر کے باعث تہہ در تہہ بنتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق، "یہ دریافت فوری طور پر توجہ کا مرکز بنی، کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں لہریں موجود تھیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا اور پانی کے درمیان تعامل پایا جاتا تھا۔”

زمین پر ابتدائی زندگی سمندر اور خشکی کے اسی تعامل سے پروان چڑھی تھی، اور مریخ کی یہ دریافت قدیم حیات کے امکانات کو مزید تقویت دیتی ہے۔

دریاؤں نے ممکنہ طور پر مریخ کے سمندر میں رسوبات بہا کر جمع کیں، جنہیں لہروں نے ساحلی علاقوں میں پھیلا دیا۔ ناسا کے پرسِویئرنس روور کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مریخ پر پانی نے نہ صرف زمین کی ساخت میں اہم تبدیلیاں کیں، بلکہ ایک قدیم دریائی ڈیلٹا بھی چھوڑا۔

جب مریخی سمندر خشک ہو گیا، تو یہ ساحلی علاقے آتش فشانی مادّے اور گرد و غبار کے طوفانوں کی وجہ سے محفوظ ہو گئے۔

اب ماہرین اس بات کا تعین کرنا چاہتے ہیں کہ مریخ کے قدیم سمندر میں لہریں اور مدوجزر کتنے بڑے تھے، یہ سمندر کتنی دیر تک قائم رہا، اور آیا اس نے ممکنہ طور پر زندگی کی میزبانی کی صلاحیت پیدا کی تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین