جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا زیلنسکی کو پیغام: یوکرین جنگ نہیں جیت رہا، امریکی انخلا...

ٹرمپ کا زیلنسکی کو پیغام: یوکرین جنگ نہیں جیت رہا، امریکی انخلا کا انتباہ
ٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کو واضح طور پر بتایا کہ یوکرین روس کے ساتھ جاری جنگ میں "بہت بڑی مصیبت” میں ہے اور "یہ جنگ نہیں جیت رہا”۔

وائٹ ہاؤس میں جمعہ کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"آپ کا ملک بڑی مشکل میں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ یہ جنگ نہیں جیت رہے۔”

ٹرمپ نے زیلنسکی کو خبردار کیا کہ وہ واشنگٹن پر شرائط مسلط نہ کریں، کیونکہ امریکہ اس تنازعے کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا:
"ہم ایک مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ مت بتائیں کہ ہمیں کیا محسوس کرنا چاہیے، کیونکہ آپ ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ہمیں یہ بتا سکیں۔”

اس کے علاوہ، ٹرمپ نے زیلنسکی کے طرزِ عمل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کی حمایت پر شکر گزار نہیں دکھائی دے رہے۔
"میں نے آپ کو مضبوط ہونے کا موقع دیا، اور میرا نہیں خیال کہ امریکہ کے بغیر آپ مضبوط ہو سکتے تھے… مگر آپ ذرا بھی شکر گزار نظر نہیں آ رہے، اور یہ اچھی بات نہیں ہے،” ٹرمپ نے کہا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ پیچھے ہٹ جائے گا:
"آپ یا تو معاہدہ کریں گے، یا ہم الگ ہو جائیں گے، اور اگر ہم الگ ہو گئے، تو پھر آپ کو خود ہی جنگ لڑنی ہوگی۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کوئی خوشگوار منظر ہوگا، لیکن آپ کو لڑنا پڑے گا۔”

یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے امکانات مسترد

ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب انہوں نے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے امکان کو رد کر دیا، اسے اس تنازعے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا:
"یہ ہونے والا نہیں ہے۔”

انہوں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ حالیہ ملاقات میں بھی یہی موقف دہرایا، جس سے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔

یہ موقف روس کی اس شرط سے ہم آہنگ ہے، جس میں اس نے مشرقی یورپ سے نیٹو افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا، جو امریکہ اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مذاکرات کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔

پیوٹن پر اعتماد

علاوہ ازیں، ٹرمپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کا احترام کریں گے، کیونکہ پیوٹن ان کا احترام کرتے ہیں۔

"انہوں نے بائیڈن کے ساتھ معاہدہ توڑا، کیونکہ وہ بائیڈن کا احترام نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اوباما کا بھی احترام نہیں کیا۔ لیکن وہ میرا احترام کرتے ہیں،” ٹرمپ نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "رشیا وچ ہنٹ” ایک "ڈیموکریٹک سازش” تھی، جو ان کے اور پیوٹن کے خلاف چلائی گئی۔
"یہ ہنٹر بائیڈن کے باتھ روم سے نکلا تھا،” ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا، اشارہ دیتے ہوئے کہ پیوٹن پر لگائے گئے الزامات سیاسی مقاصد کے تحت تھے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین