ترکی کی توسیع پسندی کے خدشات کے پیش نظر، „اسرائیل“ روسی فوجی اڈوں کو طرطوس اور لاذقیہ میں برقرار رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، „اسرائیل“ فعال طور پر امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ شام کو ایک کمزور اور منقسم ریاست کے طور پر برقرار رکھا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا مقصد روس کو ملک میں اپنے فوجی اڈے برقرار رکھنے کی اجازت دینا ہے۔ اس معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق، „اسرائیل“ روسی موجودگی کو ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک توازن کے طور پر دیکھتا ہے، جسے „اسرائیل“ اپنی توسیع پسندانہ پالیسی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
غزہ پر جاری جنگ کے دوران، „اسرائیل“ اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر جب ترکی نے شام کی نئی اسلام پسند قیادت کی حمایت کی ہے، جو بشار الاسد کی معزولی کے بعد اقتدار میں آئی۔ اسرائیلی حکام امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ شام پر سخت پابندیاں برقرار رکھے تاکہ نئی قیادت کے استحکام کو روکا جا سکے اور شام کو مزید تقسیم شدہ رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، „اسرائیل“ نے فروری میں واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران اپنی شرائط پیش کیں، جو بعد میں مقبوضہ فلسطین میں امریکی کانگریس کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں دہرائی گئیں۔ مزید یہ کہ، بعض اعلیٰ امریکی حکام کو ایک „وائٹ پیپر“ بھی فراہم کیا گیا، جس میں شام کو کمزور رکھنے کی اسرائیلی حکمت عملی بیان کی گئی تھی۔
ایک تجزیہ کار کے مطابق، „اسرائیل“ کو خدشہ ہے کہ ترکی شام کی نئی قیادت کا تحفظ کرے گا، جو بعد میں „حماس“ اور دیگر مسلح گروہوں کے لیے ایک مرکز بن سکتا ہے۔
بشار الاسد کی معزولی کے بعد، „اسرائیل“ نے اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس میں شامی فوجی تنصیبات پر فضائی حملے اور شام کے غیر فوجی علاقے میں فوجی دستوں کی تعیناتی شامل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ „اسرائیل“ جنوبی شام میں کسی بھی ایسی تنظیم کو برداشت نہیں کرے گا جو نئی شامی حکومت کی حامی ہو۔
„اسرائیل“ روسی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے پر اس لیے زور دے رہا ہے کہ ترکی کے اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔ بعض امریکی حکام، جو ان ملاقاتوں میں شریک تھے، „اسرائیل“ کے اس مؤقف پر حیران رہ گئے، کیونکہ ترکی نیٹو کا رکن ہے۔ تاہم، اسرائیلی نمائندے اس بات پر بضد رہے کہ روس کی موجودگی، ترکی کے مقابلے میں، ان کے مفادات کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔
دوسری جانب، شام کی نئی قیادت ملک کے استحکام اور عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے کوشاں ہے، تاہم اسرائیلی حکام مسلسل یہ بیانیہ پیش کر رہے ہیں کہ نئی شامی حکومت „اسرائیل“ کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

