برطانیہ کی حکومت نے غزہ پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم کے معاملے پر بی بی سی کے ساتھ ہنگامی ملاقات کی، جسے غزہ کے ایک سرکاری ملازم کے بچے نے بیان کیا تھا۔ بی بی سی پر اسرائیلی لابی کا دباؤ: غزہ پر بنی فلم ہٹانے پر مجبور
برطانوی حکومت نے جمعہ کے روز بی بی سی کے ساتھ ایک ہنگامی ملاقات کی، جس کا موضوع وہ متنازعہ دستاویزی فلم تھی جو غزہ میں بچوں کی زندگیوں کے بارے میں تھی۔ یہ فلم خاص طور پر اسرائیلی لابی کی شدید تنقید کی زد میں آئی۔ بی بی سی پر طویل عرصے سے اسرائیل نواز جانبداری کے الزامات لگتے رہے ہیں، حتیٰ کہ خود اس کے اندرونی ملازمین اور مدیران بھی ادارتی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں، خاص طور پر غزہ پر جاری جنگ کے دوران۔ گزشتہ ہفتے، بی بی سی نے "غزہ: جنگی علاقے میں کیسے زندہ رہیں” کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم نشر کی، جسے فلسطینی علاقے میں قائم غزہ حکومت کے ایک نائب وزیر کے 13 سالہ بیٹے نے بیان کیا۔ تاہم، اسرائیل نواز حلقوں، بشمول برطانیہ میں اسرائیلی سفیر اور ثقافتی سیکریٹری لیسا نینڈی کے دباؤ کے بعد، بی بی سی نے یہ فلم ہٹا دی۔ یہ فلم فلسطینی بچوں کی مشکلات کو اجاگر کرتی تھی، جو اسرائیلی بمباری کے مستقل خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں، اور اسے غزہ کے مظلوم ترین متاثرین کی "انسانیت” کو اجاگر کرنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جا رہا تھا۔ اسرائیل کی نائب وزیر خارجہ شارن ہاسکل نے بی بی سی کی جانب سے فلم نشر کرنے کے فیصلے کو "انتہائی شرمناک” قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہاسکل نے اس وقت بھی UNRWA (اقوامِ متحدہ کا فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ادارہ) پر پابندی اور اسے تحلیل کرنے کی حمایت کی تھی، جب اسرائیل غزہ پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ "دہشت گردی” سے بھرا ہوا ہے۔
بی بی سی نے دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، غزہ دستاویزی فلم ہٹا دی
آخرکار، شدید تنقید کے بعد بی بی سی نے دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور متنازعہ دستاویزی فلم کو ہٹا دیا۔ ثقافتی سیکریٹری لیسا نینڈی نے جمعہ کے روز بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا اعلان کرتے ہوئے اس معاملے کے مکمل جائزے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "میں اس بات کی ضمانت چاہتی ہوں کہ کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،” جس کا اشارہ بی بی سی کی جانب سے مکمل تحقیقات اور اس معاملے کو ادارے کی ادارتی شکایات یونٹ تک لے جانے کے فیصلے کی طرف تھا۔
ثقافتی سیکریٹری لیسا نینڈی نے جمعہ کے روز بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا اعلان کرتے ہوئے اس معاملے کے مکمل جائزے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "میں اس بات کی ضمانت چاہتی ہوں کہ کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،” جس کا اشارہ بی بی سی کی جانب سے مکمل تحقیقات اور اس معاملے کو ادارے کی ادارتی شکایات یونٹ تک لے جانے کے فیصلے کی طرف تھا۔ ادارے نے اعتراف کیا کہ پروڈکشن کمپنی اور بی بی سی دونوں سے ناقابل قبول غلطیاں ہوئیں، جن کی مکمل ذمہ داری بی بی سی قبول کرتا ہے۔
دستاویزی فلم کے دفاع میں آوازیں
تاہم، کئی افراد نے اس فیصلے پر تنقید کی۔ کونسل فار عرب-برٹش انڈرسٹینڈنگ (CAABU) کے ڈائریکٹر کرس ڈوئل نے بی بی سی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ شرمناک ہے کہ بی بی سی نے فلسطین مخالف کارکنوں کے دباؤ میں آ کر یہ فلم ہٹا دی، جو غزہ میں جاری مصائب کے لیے ہمدردی نہیں رکھتے۔” انہوں نے فلم کی جنگ زدہ علاقے میں زندگی پر "قیمتی بصیرت” کو سراہتے ہوئے، بی بی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ فلم کو بحال کرے۔
بی بی سی پر اسرائیل نواز جانبداری کا الزام
یہ تنازع بی بی سی کی ادارتی آزادی پر بھی سوالات کھڑا کر رہا ہے۔ نامور فلمساز اور صحافی رچرڈ سینڈرز نے بی بی سی کے فیصلے کو "بزدلی” قرار دیا اور خبردار کیا کہ "اسرائیلی لابی کے دباؤ کے آگے جھکنے سے میڈیا کی فلسطینی کہانیوں کی کوریج پر خطرناک نظیر قائم ہوگی۔” اس سے قبل، بی بی سی کے دو سابق صحافیوں نے Declassified کو بتایا کہ برطانوی میڈیا اداروں، بشمول Sky News اور ITN میں، ادارتی پالیسیز میں اسرائیل نواز جھکاؤ واضح ہے۔ ایک نے کہا کہ "7 اکتوبر کے بعد، یہ تعصب کھل کر سامنے آیا، اور بی بی سی نے اپنے ٹی وی، ریڈیو اور آن لائن مواد میں فلسطینیوں کو غیرانسانی بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔”
میڈیا میں فلسطینی بیانیے کو دبانے کی کوشش؟
ایک سابق بی بی سی رپورٹر نے نشاندہی کی کہ ادارے کی کوریج میں انسانی زندگی کے بارے میں ایک واضح درجہ بندی تھی:”اسرائیلیوں کی ہلاکتوں اور یرغمالیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی، رپورٹرز ان کے نام لیتے اور ہمدردی سے ان کے بارے میں کہانیاں بناتے، جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ "ادارے میں غیر اعلانیہ پالیسیوں کے تحت نسل کشی (Genocide) جیسے الفاظ کا استعمال مؤثر طریقے سے ممنوع تھا، اور اگر کوئی مہمان یہ لفظ استعمال کرتا، تو اسے فوراً خاموش کرا دیا جاتا۔” یہ جانبداری صرف ٹیلی ویژن تک محدود نہیں، بلکہ برطانوی پریس میں بھی نمایاں ہے، خواہ وہ لبرل ہو یا قدامت پسند۔ رائٹ ونگ اخبار "ٹائمز” کے ایک صحافی نے انکشاف کیا کہ "تمام رپورٹس میں ‘اکتوبر 2023 کے بعد’ جیسے جملے کو بدل کر ‘حماس حملوں کے بعد’ لکھنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ:
"میں مشرق وسطیٰ بھیجنے کی درخواست کر چکا تھا تاکہ فلسطینیوں پر مرکوز کچھ رپورٹس کر سکوں، کیونکہ میرا اس خطے میں تجربہ بھی تھا، مگر مجھے بجٹ کی کمی کا بہانہ دے کر انکار کر دیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یوکرین کی رپورٹنگ کرنے والا ایک اور رپورٹر بھیجا گیا، جسے اس خطے کا زیادہ تجربہ نہیں تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ میں آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) کی بریفنگز میں نہیں جاتا تھا اور دوسرے رپورٹرز کی طرح اسرائیلی بیانیہ دہرانے سے گریز کرتا تھا، اس لیے کسی ایسے شخص کو بھیجا گیا جو ‘صحیح’ باتیں رپورٹ کرے۔”

