جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانایف بی آر ماہانہ ریونیو ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام، 601 ارب...

ایف بی آر ماہانہ ریونیو ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام، 601 ارب روپے ریونیو شارٹ فال
ا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا طےکردہ ماہانہ ریونیو ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ایف بی آر کے لیے 601 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر جب حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ فروری میں 850 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی، جو مقررہ ہدف 983 ارب روپے سے 133 ارب روپے کم رہی۔ اگر یہی رفتار جاری رہی تو مالی سال کے آخر میں ہدف پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ صورتحال حکومت کے مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے یا تو مزید قرضے لینے پڑیں گے یا پھر سخت مالیاتی اقدامات کرنے ہوں گے، جن میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بڑھانے کی کوششیں ایک اہم معاشی پالیسی کا حصہ ہیں، خاص طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کا 13 فیصد تک کا ہدف حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ رواں مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کا 8.77 فیصد پر رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معیشت کی موجودہ صورتحال اور ٹیکس وصولیوں میں درپیش رکاوٹوں کے باعث حکومتی اہداف پورے ہونے میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ایف بی آر حکام کی امید کہ چوتھی سہ ماہی میں یہ تناسب 11 فیصد سے تجاوز کر جائے گا، ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اضافی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، نان فائلرز پر سختی کرنا، اور غیر ضروری ٹیکس چھوٹ ختم کرنا پڑے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین