پاکستان اور چین نے خلائی تعاون کو فروغ دینے اور چین کے خلائی اسٹیشن کے لیے خلائی پرواز پر پہلے پاکستانی خلاباز کو تربیت دینے کا معاہدہ کیا ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے خلائی تعاون کی ایک اہم پیشرفت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان مینڈ اسپی مشن (خلابازی مشن) میں چین کے تعاون کی خواہش ظاہر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان مستقبل میں انسانی خلائی مشنز میں بھی شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چین پہلے ہی اپنے خلائی پروگرام میں بڑی کامیابیاں حاصل کر چکا ہے، اور اس تعاون سے پاکستان کو جدید خلائی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ لانچنگ، اور دیگر خلائی تحقیقی منصوبوں میں اہم مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔
یہ پیشرفت پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اسپارکو کے چیئرمین کی جانب سے جاری کردہ بریفنگ کے مطابق، پاکستان کے تین مشاہداتی سیٹلائٹس پہلے سے خلا میں فعال ہیں، اور مزید چار سیٹلائٹس رواں سال کے آخر تک خلا میں بھیجے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ اقدامات ملک کے سائنسی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اس پروگرام کی کامیابی پر زور دینا اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کو ترجیح دینا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو صرف سائنسی ترقی تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اسے ٹیکنالوجی، روزگار، اور تعلیمی شعبے میں بھی سودمند بنانا چاہتی ہے۔

