جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستاننوشہرہ: مدرسہ حقانیہ میں خودکش دھماکا، مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد...

نوشہرہ: مدرسہ حقانیہ میں خودکش دھماکا، مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد شہید، 20 زخمی
ن

خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔ نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور مدرسہ کے نائب مہتمم، مولانا حامد الحق سمیت 8 افراد شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق، مولانا حامد الحق نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد مدرسے کے مرکزی دروازے سے اپنے گھر جانے کے لیے نکل رہے تھے کہ ایک خودکش حملہ آور، جو دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ پہنے ہوئے تھا، ان سے گلے ملا اور خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ زخمیوں میں مولانا حامد الحق کے صاحبزادے، مولانا عبدالحق ثانی بھی شامل ہیں، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ خودکش بمبار کے سر کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں تاکہ اس کی شناخت کی جا سکے۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ مولانا حامد الحق کی نمازِ جنازہ آج دن گیارہ بجے اکوڑہ خٹک میں ادا کی جائے گی یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ خودکش حملے میں مولانا حامد الحق کی شہادت اور دیگر قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حکومتی اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، اور واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ نوشہرہ اور پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات اس حملے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ واقعہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جاری جنگ اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ خاص طور پر جب یہ حملہ ایک ایسے مذہبی ادارے پر کیا گیا جو اسلامی تعلیمات کی ترویج میں مصروف تھا۔ وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا، گورنر اور دیگر اہم شخصیات کی جانب سے واقعے کی مذمت اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ تاہم، گورنر خیبرپختونخوا کے بیان میں حکومت کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جو اس واقعے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی تناؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ حملہ ملک میں جاری امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین