جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیشمالی کوریا کا اسٹریٹیجک میزائل تجربہ

شمالی کوریا کا اسٹریٹیجک میزائل تجربہ
ش

پیونگ یانگ نے کہا ہے کہ یہ میزائل تجربہ ان "دشمنوں” کے لیے انتباہ ہے جو ملک کی سلامتی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

شمالی کوریا نے اپنے جوہری "جوابی حملے” کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اسٹریٹیجک کروز میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے جمعہ کے روز اطلاع دی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق، میزائلوں نے 1,587 کلومیٹر کا فاصلہ بیضوی راستے میں طے کیا اور اپنے ہدف تک پہنچنے میں تقریباً 2.2 گھنٹے لگے۔ یہ رواں سال کا چوتھا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دوسرا میزائل تجربہ تھا۔

کے سی این اے کا کہنا ہے کہ اس تجربے کا مقصد "دشمنوں کو متنبہ کرنا تھا، جو جمہوریہ کوریا کی سلامتی کے ماحول کی سنگین خلاف ورزی کر رہے ہیں اور تصادم کے ماحول کو ہوا دے رہے ہیں” اور اس کے ساتھ ساتھ "مختلف جوہری ہتھیاروں کے عملی استعمال کی تیاری کو ظاہر کرنا” تھا۔

خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں ایک کروز میزائل کو مغربی بحیرۂ کوریا کے اوپر پرواز کرتے، اپنے ہدف کو نشانہ بناتے اور تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اس تجربے کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، کم جونگ اُن نے اس میزائل تجربے پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فوج کو اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے لیے ہر وقت مکمل تیار رہنا چاہیے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اس تجربے کو مانیٹر کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی "اشتعال انگیزی” کا مقابلہ کرنے کے لیے، امریکہ کے تعاون سے، مکمل طور پر تیار ہیں۔

دسمبر میں، کم جونگ اُن نے ملک کے دفاع کو مضبوط کرنے اور پیونگ یانگ کی طویل مدتی سلامتی کے لیے "امریکہ مخالف سخت ترین جوابی کارروائی” کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے امریکہ کو "سب سے زیادہ رجعت پسند ریاست” قرار دیا۔

شمالی کوریا کے رہنما نے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے اتحاد کو "جارحیت پر مبنی جوہری عسکری اتحاد” قرار دیتے ہوئے، جنوبی کوریا کو "امریکہ کی مکمل اینٹی-کمیونسٹ چوکی” کہا تھا۔

جنوری میں، شمالی کوریا نے کامیابی کے ساتھ ایک جدید ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا۔ کم جونگ اُن نے کہا کہ اس نئے میزائل سسٹم کی ترقی کا مقصد ملک کے جوہری دفاعی نظام کو مزید جدید بنانا ہے۔

حالیہ برسوں میں، امریکہ اور جنوبی کوریا نے اپنی فوجی مشقوں کے حجم اور تعداد میں اضافہ کیا ہے، جس کے ردعمل میں پیونگ یانگ نے اپنے میزائل تجربات کی رفتار تیز کر دی ہے۔ 2022 سے اب تک، شمالی کوریا 100 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل لانچ کر چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین