جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل نے 'ہینیبال ڈائریکٹیو' کے تحت اپنے ہی شہریوں کا قتل عام...

اسرائیل نے ‘ہینیبال ڈائریکٹیو’ کے تحت اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کیا: فوجی تحقیقات
ا

ایک داخلی فوجی تحقیقات نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور دیگر گروہوں کے آپریشن طوفان الاقصیٰ کے دوران، اسرائیلی فوج نے ایک متنازعہ فوجی حکمتِ عملی، جسے "ہینیبال ڈائریکٹیو” کے نام سے جانا جاتا ہے، کے تحت اپنے ہی شہریوں کو ہدف بنایا۔

یہ حکمتِ عملی 1986 میں اس وقت متعارف کرائی گئی جب حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجیوں کو قید کر لیا تھا۔ اس ڈائریکٹیو کے تحت اسرائیلی فورسز کو ہدایت دی گئی کہ اگر ان کے اہلکار دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو جائیں تو انہیں نشانہ بنایا جائے، کیونکہ ایک ہلاک شدہ فوجی کو زندہ یرغمالی سے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔

ہینیبال ڈائریکٹیو کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو دشمن کے ہاتھوں یرغمال بننے سے روکنے کے لیے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا سکتا ہے، خواہ یہ دشمن فلسطینی مزاحمتی جنگجو ہی کیوں نہ ہوں۔

اگرچہ یہ حکمتِ عملی 2016 میں سرکاری طور پر منسوخ کر دی گئی تھی، تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب حکومت نے اس ڈائریکٹیو کو غیر اعلانیہ طور پر دوبارہ فعال کر دیا تھا۔

تحقیقات کے کلیدی انکشافات

اسرائیلی فوجی تحقیقات، جس کے نتائج جمعرات کو جاری کیے گئے، سے معلوم ہوا کہ صبح 10:30 بجے کے قریب اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی سرحد کے قریب "ہر اُس چیز پر فائرنگ شروع کر دی جو حرکت کر رہی تھی”۔

اسرائیلی فضائیہ نے "تلوارِ داموقلیس” نامی آپریشن کے تحت مبینہ طور پر غزہ میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے دوران مجموعی طور پر 945 فضائی حملے کیے گئے، اور ہیلی کاپٹروں نے 11,000 گولے فائر کیے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر میں "افسران کی شکست تسلیم کرنے سے انکار” اور "انتہائی بدنظمی” کے باعث حماس کے حملے کا بروقت جواب دینے میں تاخیر ہوئی۔

اسرائیلی اخبار دی یروشلم پوسٹ کے مطابق، فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل آوی روزین فیلڈ اب بھی یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کی افواج حماس کے ہاتھوں مکمل طور پر شکست کھا چکی تھیں، اور وہ یہ بھی قبول نہیں کریں گے کہ یہ شکست 7 اکتوبر کی صبح 7 بجے سے قبل واقع ہو چکی تھی۔

ہینیبال ڈائریکٹیو کا اطلاق

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے تقریباً 10:05 بجے فیصلہ کیا کہ اسرائیل-غزہ سرحد پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے جائیں، اور ہینیبال ڈائریکٹیو کے تحت کارروائی صبح 10:30 بجے سے شروع کی گئی۔

فوجی قیادت کو جب تک جنوبی اسرائیل میں پیش آنے والے واقعات کا "85 فیصد ادراک” حاصل ہوا، تب تک زیادہ تر فلسطینی جنگجو پہلے ہی یرغمالیوں کو لے کر غزہ واپس جا چکے تھے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 251 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے متعدد اسرائیلی فضائی حملوں اور اپنے ہی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

فوجی اور سیاسی قیادت کی سنگین غلطیاں

تحقیقات میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ تل ابیب حکومت نے حماس کی جنگی صلاحیتوں کو "انتہائی کم تر” سمجھا اور یہ مفروضہ قائم کیا کہ فلسطینی مزاحمتی گروہ اسرائیل کے ساتھ کسی وسیع محاذ آرائی میں دلچسپی نہیں رکھتے، حالانکہ دستیاب انٹیلی جنس رپورٹس اس کے برعکس تھیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع، یوآو گالانٹ، نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کے دوران اسرائیلی فوج کو ہینیبال ڈائریکٹیو کے تحت اپنے ہی فوجیوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا تھا۔

جنوبی اسرائیل کو "قتلِ عام کا زون” بنا دیا گیا

قبل ازیں، اسرائیلی اخبار ہارٹز نے رپورٹ کیا تھا کہ ہینیبال ڈائریکٹیو کے اطلاق نے جنوبی مقبوضہ فلسطین کو ایک "قتلِ عام کے زون” میں تبدیل کر دیا تھا۔

اخبار کے مطابق، اسرائیلی افواج کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر ضروری ہو تو اپنے ہی فوجیوں اور شہریوں کو قتل کر دیا جائے تاکہ وہ فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں کے ہاتھوں یرغمال نہ بن سکیں۔

ہارٹز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں مزید لکھا کہ:
"7 اکتوبر کو جب غزہ میں موجود مزاحمتی گروہوں بشمول حماس نے آپریشن کا آغاز کیا، تو اسرائیلی فورسز نے اپنے ہی فوجی اڈوں اور بستیوں پر بھاری ہتھیاروں، حملہ آور ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور ٹینکوں سے فائرنگ کی۔ ان کا مقصد غزہ سے داخل ہونے والے حماس کے جنگجوؤں کو ختم کرنا تھا، چاہے اس میں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت ہی کیوں نہ ہو۔”

نتائج اور اثرات

تحقیقات میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کے دوران اسرائیلی فوج مکمل طور پر ناکام رہی۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کے مطابق، "اس دن بے شمار عام شہری اپنی جان بچانے کے لیے بے بسی سے یہ سوال کر رہے تھے: اسرائیلی فوج کہاں ہے؟”

یہ انکشافات اسرائیلی حکومت اور فوجی قیادت کے لیے ایک سنگین دھچکا ہیں اور عالمی سطح پر اسرائیلی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین