جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستاناپوزیشن کی قومی یکجہتی کانفرنس، پیکا سمیت تمام غیر آئینی ترامیم ختم...

اپوزیشن کی قومی یکجہتی کانفرنس، پیکا سمیت تمام غیر آئینی ترامیم ختم کرنے کا مطالبہ
ا

اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی یکجہتی کانفرنس کے دوسرے روز کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا کہ موجودہ پارلیمنٹ کے وجود کی کوئی اخلاقی، سیاسی اور قانونی حیثیت نہیں ہے جب کہ ہم پیکا سمیت آئین کی روح سے متصادم تمام ترامیم ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نیوز کے مطابق، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی یکجہتی کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے کنوینر شاہد خاقان عباسی کو پولیس نے ہوٹل میں داخل ہونے سے روک دیا۔ تاہم، انتظامیہ کے روکنے کے باوجود، اپوزیشن کے رہنما ہوٹل میں داخل ہوگئے۔ اس دوران، ہوٹل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ نیوز کے مطابق، کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ چوری شدہ انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی غیر نمائندہ حکومت کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام، مایوسی، معاشی مشکلات اور صوبوں میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس پس منظر میں، شاہد خاقان عباسی اور محمود خان اچکزئی کی دعوت پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔

علاوہ ازیں، کانفرنس میں ملک بھر سے سول سوسائٹی کے دانشوروں، میڈیا اور صحافی برادری کے نمائندوں، سینئر وکلا، اور ان کی تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران ملک کے بگڑتے ہوئے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دو روزہ بحث و مباحثے کے بعد، وطن عزیز کو بحران سے نکالنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایک نکتہ ایسا تھا جس پر تمام اپوزیشن جماعتوں اور دیگر شرکا کا مکمل اتفاق تھا، اور وہ یہ کہ پاکستان آئین کی بالادستی اور اس کی حرمت کے تحفظ کے بغیر، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے بغیر، اور ایک قابلِ اعتماد نظامِ عدل کی غیر موجودگی میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔

شرکا نے مکمل اتفاق کیا کہ ملک کے مسائل کا واحد حل آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ 8 فروری 2024 کے دھاندلی شدہ انتخابات کے نتائج ملک میں موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی بحران کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ، موجودہ پارلیمنٹ کے وجود کی کوئی اخلاقی، سیاسی اور قانونی حیثیت نہیں۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ہم آئین کی روح سے متصادم تمام ترامیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مزید برآں، آئینی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالی ملک میں قانون کی حکمرانی کی مکمل نفی اور اس غیر نمائندہ حکومت کی فسطائیت کی واضح دلیل ہے۔ شرکا نے اتفاق کیا کہ ہمارا آئین کسی بھی پاکستانی شہری کو سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر ہراساں کرنے، گرفتار کرنے یا جیل میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے تمام سیاسی اسیروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ عوام اور میڈیا کی زبان بندی کے لیے کی گئی پیکا ترامیم کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں لوگوں کی شکایات اور شکوے، خاص طور پر پانی کے وسائل کی تقسیم، 1991 کے واٹر ایکورڈ کے مطابق حل کیے جائیں۔ شرکا نے واضح کیا کہ اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔

شرکا نے اتفاق کیا کہ ملک کے موجودہ بحران کا واحد حل آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔ آج کے حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کی قومی قیادت ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر قومی ڈائیلاگ کے ذریعے پاکستان کو مستحکم کرنے اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے متفقہ حکمت عملی تیار کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس علامیے پر عمل درآمد کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد پاکستان کے مسائل کے حل اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے تک جاری رہے گی۔

شاہد خاقان عباسی کا بیان

اس سے قبل، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے شکوہ کیا کہ وزیر اطلاعات نے ٹی وی پر کہا تھا کہ کانفرنس کی اجازت ہے اور کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن پھر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو خود نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کل جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان یہ سب کچھ کر رہے تھے، تو اس وقت موجودہ حکمرانوں کی کیا رائے تھی؟ آج وہی لوگ حکمران بن کر بیٹھے ہیں، اور یہی اس ملک کی بدنصیبی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومت نے ملک میں آئین اور قانون کا مذاق بنا دیا ہے۔ اس دوران عمر ایوب، محمود خان اچکزئی اور حامد رضا بھی ہوٹل کے باہر پہنچ گئے۔

حکومتی ردعمل

مشیر قانون بیرسٹر عقیل ملک نے اپوزیشن کی کانفرنس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے اجتماع کو قومی کانفرنس کا نام دینے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند لوگ محض سیاسی تماشا لگانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ہزاروں کا مجمع تھا تو ویڈیوز کہاں ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ چند افراد ایک آڈیٹوریم میں جمع ہوئے تھے، حکومت آئین اور جمہوریت کے مطابق کام کر رہی ہے۔

حکومت کی مداخلت

واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت ہوٹل انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ کانفرنس کے دوسرے دن کی اجازت منسوخ کر دی جائے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ کانفرنس ضرور منعقد ہوگی۔

یہ دو روزہ کانفرنس 26 فروری 2025 کو اسلام آباد کے لیجنڈ ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ملکی سیاسی صورتحال اور موجودہ بحرانوں پر تبادلہ خیال کیا۔

شاہد خاقان عباسی کی وضاحت

اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں، سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ کانفرنس ملکی مسائل، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے حوالے سے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ایک حکومت وجود میں ہے جو آئین کے نام سے گھبراتی ہے، جو ایک کانفرنس سے خوفزدہ ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس کسی سڑک پر نہیں، بلکہ ایک بند کمرے میں ہو رہی تھی، جہاں چند سو افراد ایک آڈیٹوریم میں موجود تھے۔ تاہم، حکومت یہ بھی برداشت نہیں کر سکی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پہلے دن کی کانفرنس ختم ہونے کے بعد، ہوٹل انتظامیہ کو دھمکی دی گئی کہ اگر کانفرنس جاری رکھی گئی تو ہوٹل پر کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اسے بند کر دیا جائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین