جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانجمہوریت انڈیکس 2024 میں پاکستان کی 6 درجے تنزلی

جمہوریت انڈیکس 2024 میں پاکستان کی 6 درجے تنزلی
ج

اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے جاری کردہ ڈیموکریسی انڈیکس کے مطابق جمہوریت کی درجہ بندی 2024 میں پاکستان کی 6 درجے تنزلی ہو گئی اور یہ 10 بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں آگیا۔

عالمی جمہوری انڈیکس: پاکستان 124 ویں نمبر پر، آمرانہ حکومتوں میں شامل

ایک تازہ تحقیق میں دنیا بھر کی 165 آزاد ریاستوں اور 2 خودمختار خطوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں جمہوریت کے پانچ بنیادی عوامل کو مدنظر رکھا گیا:

  1. انتخابی عمل
  2. حکومت کی فعالیت
  3. سیاسی شرکت
  4. سیاسی ثقافت
  5. شہری آزادی

انڈیکس میں ممالک کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا:

  • مکمل جمہوریت
  • ناقص جمہوریت
  • ہائبرڈ نظام
  • آمرانہ حکومت

پاکستان کا درجہ اور عالمی درجہ بندی

تحقیق کے مطابق، دنیا بھر میں مجموعی طور پر جمہوری زوال کا رجحان دیکھا گیا۔ پاکستان کا مجموعی اسکور 2.84 رہا، جس کے ساتھ وہ عالمی درجہ بندی میں 124 ویں نمبر پر آیا اور آمرانہ حکومتوں میں شامل کیا گیا۔

آمرانہ حکومتوں میں اضافہ

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ:

  • آمرانہ حکومتوں کے اوسط اسکور میں مزید کمی دیکھی گئی ہے۔
  • حالیہ رجحانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ آمرانہ حکومتیں مزید سخت اور جابرانہ ہوتی جا رہی ہیں۔
  • دنیا کی 39.2 فیصد آبادی آمرانہ حکومتوں کے تحت زندگی گزار رہی ہے، اور اس تناسب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
  • اب تک 60 ممالک کو آمرانہ حکومتوں کے زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔

یہ تحقیق عالمی سطح پر جمہوری عمل میں تنزلی اور آمرانہ طرز حکمرانی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

EIU رپورٹ: پاکستان، بنگلہ دیش اور جنوبی کوریا کی جمہوری درجہ بندی میں نمایاں گراوٹ

معروف جمہوری انڈیکس Economist Intelligence Unit (EIU) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 2024 میں ایشیا اور آسٹریلیا کے جمہوری اسکور میں مسلسل چھٹے سال کمی دیکھی گئی، جہاں اوسط اسکور 5.41 سے گر کر 5.31 پر آ گیا۔

بدترین کارکردگی دکھانے والے ممالک

EIU رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش، جنوبی کوریا اور پاکستان نے خطے میں سب سے زیادہ جمہوری تنزلی کا سامنا کیا:

  • بنگلہ دیش: عالمی درجہ بندی میں 25 درجے نیچے چلا گیا۔
  • جنوبی کوریا: 10 درجے تنزلی کا شکار ہوا۔
  • پاکستان: 6 درجے نیچے چلا گیا۔

انتخابات اور آمرانہ حکمرانی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 70 سے زائد ممالک میں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، گزشتہ سال انتخابات منعقد ہوئے۔ تاہم، ان انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا گیا، جو خاص طور پر آمرانہ حکومتوں میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔

رپورٹ میں درج ذیل ممالک کو آمرانہ طرز حکمرانی کے لیے نمایاں کیا گیا:

  • آذربائیجان، بنگلہ دیش، بیلاروس، ایران، موزمبیق، پاکستان، روس، وینزویلا
  • ان ممالک میں حکمران جماعتوں نے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ طریقے اپنائے۔

جنوبی ایشیا میں جمہوریت کو سنگین چیلنجز

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور سری لنکا کو انتخابی جوڑ توڑ، تقسیم کی سیاست اور سیاسی بدامنی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

2024 کے انتخابات خاص طور پر دھوکا دہی اور تشدد سے متاثر ہوئے:

  • پاکستان میں 8 فروری کے عام انتخابات میں سیاسی جبر اور حکومتی مداخلت کے الزامات لگائے گئے۔
  • جنوبی ایشیا میں جمہوریت کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔

جمہوریت کو درپیش عالمی مشکلات

ڈیموکریسی انڈیکس کے ڈائریکٹر، جان ہوئی کے مطابق:

  • 2006 سے جمہوری انڈیکس کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا میں آمریت مضبوط ہو رہی ہے۔
  • جمہوریتوں کو مسلسل مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ رپورٹ عالمی سطح پر جمہوری زوال، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، بڑھتی ہوئی آمریت اور انتخابی دھاندلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین