استنبول، 27 فروری– روسی اور امریکی سفارت کاروں نے جمعرات کے روز ترکی میں ملاقات کی تاکہ واشنگٹن اور ماسکو میں اپنے اپنے سفارت خانوں کے امور پر پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کیا جا سکے۔ یہ مذاکرات وسیع تر تعلقات کو بحال کرنے اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم آزمائش سمجھے جا رہے ہیں۔
گزشتہ سال کریملن نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے تحت روس-امریکہ تعلقات کو "صفر سے نیچے” قرار دیا تھا۔ بائیڈن نے یوکرین کو امداد اور ہتھیار فراہم کیے اور 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے جواب میں روس پر سخت پابندیاں عائد کیں۔
تاہم، ان کے جانشین صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پالیسی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ماسکو کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے جنگ کے جلد خاتمے کے اپنے دیرینہ وعدے کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ مذاکرات 12 فروری کو ٹرمپ اور صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو اور چھ دن بعد سعودی عرب میں ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات کے تسلسل میں ہو رہے ہیں۔
روسی وفد سیاہ مرسڈیز وین میں استنبول میں امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات کے لیے پہنچا۔ روسی سرکاری ٹی وی کے مطابق، ان مذاکرات کا دورانیہ پانچ سے چھ گھنٹے متوقع ہے۔
یوکرین اور یورپی اتحادیوں کی تشویش
یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی اس بات پر تشویش کا شکار ہیں کہ ٹرمپ کا ماسکو کے ساتھ تیز رفتار سفارتی میل جول جنگ کے خاتمے کے کسی ایسے معاہدے کی راہ ہموار کر سکتا ہے جس میں ان کے مفادات نظر انداز کر دیے جائیں اور ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ تاہم، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد جنگ بندی کر کے خونریزی ختم کرنا چاہتے ہیں۔
اس ہفتے پیوٹن نے فوری معاہدے کے امکانات کو کمزور کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پیش رفت سے قبل روس اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔
دونوں ممالک نے گزشتہ دہائی کے دوران ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو بے دخل کیا ہے اور نئے عملے کی تعیناتی پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے سفارت خانے عملے کی شدید قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔
مذاکرات کا محدود دائرہ کار
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ان مذاکرات میں سفارتی عملے کی سطح، ویزوں اور سفارت کاروں کے مالیاتی امور جیسے مسائل زیر بحث آئیں گے۔
"واضح رہے کہ ان مذاکرات کے ایجنڈے میں کوئی سیاسی یا سیکیورٹی معاملات شامل نہیں ہیں۔ یوکرین بھی اس ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے،” امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ملاقات سے ایک روز قبل بیان میں کہا۔
ترجمان کے مطابق، "ان مذاکرات کی نوعیت بہت جلد واضح ہو جائے گی؛ یا تو مسائل حل ہوں گے یا نہیں۔ ہمیں جلد معلوم ہو جائے گا کہ آیا روس واقعی نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔”
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ان مذاکرات کا نتیجہ "یہ ظاہر کرے گا کہ ہم کتنی جلدی اور مؤثر طریقے سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔” انہوں نے اعتراف کیا کہ روس نے ماسکو میں امریکی سفارت کاروں کے لیے "ناخوشگوار حالات” پیدا کیے ہیں، جو ان کے بقول واشنگٹن میں روسی سفارت کاروں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا جواب تھا۔
اگرچہ ان مذاکرات کا دائرہ کار محدود ہے، لیکن یہ ایک ایسے عمل کا ابتدائی قدم ہو سکتے ہیں جو جوہری تخفیف اسلحہ اور اقتصادی تعاون جیسے وسیع تر معاملات پر روس-امریکہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ طور پر منافع بخش کاروباری منصوبوں پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔ پیوٹن نے اس ہفتے کہا تھا کہ ماسکو امریکہ کو روس اور یوکرین کے ان علاقوں میں، جنہیں روس نے اپنا حصہ قرار دیا ہے، قیمتی معدنی وسائل کی تلاش کے مشترکہ منصوبوں میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے لیے تیار ہے۔
استنبول میں امریکی وفد کی قیادت نائب معاون وزیر خارجہ سوناتا کولٹر کر رہی ہیں، جبکہ روسی ٹیم کی سربراہی وزارت خارجہ کے شمالی امریکہ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ الیگزینڈر دارچیو کر رہے ہیں۔
دارچیو کو روس کے اگلے امریکی سفیر کے طور پر اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ عہدہ اس وقت خالی ہے۔

