اسلام آباد: حکومت اور روس کے درمیان جدید اسٹیل ملز کے قیام کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جو کہ بند پڑی پاکستان اسٹیل ملز کے مقام پر تعمیر کی جائے گی۔ وزیر صنعت و پیداوار اگلے ہفتے ماسکو کا دورہ کریں گے۔ وزیر رانا تنویر حسین اور سیکرٹری سیف انجم نے بدھ کے روز "دی نیوز” کو تصدیق کی کہ ایک روسی وفد جمعہ کو پاکستان پہنچے گا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
سوویت تعاون سے قائم، اب حکومتی بوجھ
سوویت یونین کی مدد سے 1970 کی دہائی میں تعمیر کی گئی پاکستان اسٹیل ملز (PSM) 2015 سے بند پڑی ہے اور ریاست پر مالی بوجھ بنی ہوئی ہے۔ حکومت نے موجودہ سہولت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 700 ایکڑ زمین سندھ حکومت کو جدید اسٹیل ملز کے قیام کے لیے دی جائے گی، جبکہ باقی زمین کو صنعتی پارک کے لیے مختص کیا جائے گا۔
صنعتی اصلاحات اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی نجکاری
دوسری جانب، حکومت صنعتی شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔ اس حوالے سے، وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مالی بحران کا شکار یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (USC) کو یا تو نجی شعبے کے اشتراک سے بحال کیا جا سکتا ہے یا مکمل طور پر نجکاری کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مالی دباؤ کے باعث روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو فارغ کیا جا سکتا ہے، تاہم مستقل ملازمین اپنی ملازمت برقرار رکھیں گے۔ ان کے اس بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے ایک رکن نے تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کے کارکنان کو نوکریوں سے نکالنے کا فیصلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟
اداروں کی بندش کے وسیع تر منصوبے
حکومت کے "رائٹ سائزنگ” پالیسی کے تحت وزارت صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والے 29 اداروں میں سے 20 کو بند کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

