وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز، ہف پوسٹ اور جرمن اخبار ڈیر ٹیگس اشپیگل کے صحافیوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی کابینہ میٹنگ کی کوریج سے روکنے کے فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
میڈیا اداروں کا ردعمل:
- ایسوسی ایٹڈ پریس ، بلومبرگ اور رائٹرز نے مشترکہ بیان میں کہا: "یہ سروسز طویل عرصے سے اس بات کو یقینی بناتی رہی ہیں کہ صدارت کے بارے میں درست، منصفانہ اور بروقت معلومات تمام سیاسی نظریات کے حامل وسیع سامعین تک پہنچیں… ایک آزاد اور خودمختار پریس جمہوریت میں عوام کے لیے اپنی حکومت کے بارے میں معلومات تک رسائی کے لیے ضروری ہے۔”
- ہف پوسٹ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے "پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ صحافت کے حق کی خلاف ورزی” قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کا بیان:
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے وضاحت کی کہ بڑے نیوز اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر صدر تک رسائی حاصل رہے گی، لیکن محدود جگہوں میں میڈیا کی شرکت کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔
وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس’ ایسوسی ایشن کا ردعمل:
WHCA نے اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پریس کی آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے اور دہائیوں سے قائم پریس پول سسٹم کو متاثر کرتا ہے۔
پس منظر:
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو پریس پول سے اس لیے خارج کر دیا تھا کہ اس نے خلیج میکسیکو کے لیے صدر ٹرمپ کی تجویز کردہ نئی اصطلاح "گلف آف امریکہ” کو اپنے رپورٹس میں استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
یہ صورتحال صحافتی آزادی اور حکومت و میڈیا کے تعلقات کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔

