جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی ارکان کانگریس کا مارکو روبیو کو خط،’عمران خان کی رہائی‘ کیلئے...

امریکی ارکان کانگریس کا مارکو روبیو کو خط،’عمران خان کی رہائی‘ کیلئے پاکستان سے بات چیت پر زور
ا

امریکی ارکان کانگریس جو ولسن اور اگست پلگر نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو خط لکھ کر زور دیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کریں۔ جو ولسن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد پوسٹس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے متعدد مقدمات میں گرفتار ہیں، جنہیں وہ ’سیاسی‘ قرار دیتے ہیں۔ جو ولسن ایوان کی خارجہ امور اور آرمڈ سروسز کی کمیٹیوں کے ایک اہم رکن ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن پالیسی کمیٹی کے سربراہ ہیں اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب سمجھا جاتا ہے، اگست پلگر ریپبلکن اسٹڈی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ جو ولسن اور اگست پلگر نے 25 فروری کو سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو مشترکہ خط لکھا، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ عمران خان کو آزاد کروانے کے لیے پاکستان میں ملٹری رجیم کے ساتھ بات چیت کریں‘۔ یہ خبر امریکی کانگریس میں پاکستان کی سیاست پر بڑھتی ہوئی توجہ کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر عمران خان کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے حوالے سے۔ جو ولسن اور اگست پلگر کی جانب سے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان سے بات چیت کریں تاکہ عمران خان کو رہا کروایا جا سکے اور جمہوری اصولوں کو بحال کیا جائے۔ خط میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب وہ آزادی پر مبنی ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان پاکستان میں مقبول ہیں، اور ان کی رہائی سے دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔ امریکی ارکان کانگریس جو ولسن اور اگست پلگر نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو خط لکھ کر زور دیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کریں۔ جو ولسن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد پوسٹس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے پہلے دورِ حکومت میں امریکا کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے اور امریکی قیادت کے درمیان مضبوط روابط رہے ہیں۔ خط میں جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی صحافت، آزادیِ اجتماع، اور اظہارِ رائے کی حمایت پر بھی زور دیا گیا، اور کہا گیا کہ ان اصولوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ جو ولسن نے 17 فروری 2025 کو سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔

دوسری جانب، ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن ماسٹ نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکا پاکستانی جمہوریت سے متعلق تحفظات رکھتا ہے، لیکن اس کی خارجہ پالیسی کا محور قومی سلامتی اور اقتصادی ترجیحات ہی رہے گا۔ اسی مہینے کے آغاز میں، جو ولسن نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھی ایک خط لکھا تھا، جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان مضبوط تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے قومی مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان 75 سال سے زائد عرصے سے جاری دوطرفہ تعلقات اس وقت مضبوط ترین سطح پر ہوتے ہیں جب پاکستان اپنے جمہوری اصولوں اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتا ہے۔ اپنے خط اور تقریر دونوں میں، کانگریس مین نے عمران خان کے ساتھ اپنے شدید اختلافات کا بھی اعتراف کیا، خاص طور پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی کمیونسٹ پارٹی سے متعلق ان کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ تاہم، ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی مخالفین کو جمہوری انتخابات میں شکست دی جانی چاہیے، نہ کہ انہیں من گھڑت سیاسی الزامات کے تحت جیل میں ڈالنا چاہیے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین