امریکی وفاقی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (DOGE) کے 21 ملازمین نے ایک اجتماعی استعفیٰ نامہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ادارہ حساس حکومتی ڈیٹا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ ملازمین، جو امریکی سول سروس سے وابستہ تھے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں پیدا ہونے والے تنازعات کے تناظر میں مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ نامے میں DOGE کی قیادت پر نظریاتی حملوں اور حکومتی نظام کے استحکام کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
"ہم نے امریکی عوام کی خدمت کا حلف اٹھایا تھا اور مختلف صدارتی ادوار میں آئین کی پاسداری کا عزم کیا تھا،” ملازمین نے اپنے بیان میں لکھا۔ "تاہم، اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم مزید ان وعدوں کی پاسداری نہیں کر سکتے۔”
استعفیٰ دینے والے ملازمین میں انجینئرز، ڈیٹا سائنسدان اور پروڈکٹ مینیجرز شامل تھے، جو پہلے گوگل اور ایمیزون جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کر چکے تھے۔
"ہم اپنی تکنیکی مہارت کو حکومتی نظام کو نقصان پہنچانے، امریکی شہریوں کے حساس ڈیٹا کو خطرے میں ڈالنے یا اہم عوامی خدمات کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کریں گے،” انہوں نے مزید کہا۔ "ہم اپنی صلاحیتوں کو DOGE کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے یا انہیں جواز فراہم کرنے کے لیے پیش نہیں کر سکتے۔”
DOGE میں انتشار
یہ استعفے ٹرمپ کے سخت اقدامات کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں، جن کے تحت وہ وفاقی اداروں کی تنظیم نو اور عملے میں کمی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے نومبر میں دوسری بار صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد ایلون مسک کو DOGE کا سربراہ مقرر کیا۔ یہ ایک نیا ادارہ تھا جس کا دائرۂ کار ابتدا میں غیر واضح تھا۔ ناقدین نے نشاندہی کی کہ حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پہلے سے ہی آزاد نگران ایجنسیاں موجود تھیں۔
لیکن ٹرمپ نے اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھانے کے پہلے ہی دن ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈیجیٹل سروس (USDS) کو DOGE میں تبدیل کر دیا۔ USDS کا قیام 2014 میں عمل میں آیا تھا تاکہ حکومت کے ٹیکنالوجی سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے۔
منگل کو استعفیٰ دینے والے ملازمین اسی دفتر کا حصہ تھے جو اب DOGE بن چکا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ ان کے دفتر میں وائٹ ہاؤس کے وزیٹر پاسز پہنے افراد آئے، جنہوں نے ملازمین سے ان کے سیاسی نظریات اور کام کے تجربے کے بارے میں سوالات کیے۔
انہوں نے DOGE میں ہونے والی برطرفیوں کی بھی مذمت کی۔ فروری کے آغاز میں تقریباً 40 ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا، جو کہ ایک انتہائی غیر متوقع اور سخت فیصلہ تھا۔ استعفیٰ نامے میں خبردار کیا گیا کہ ان برطرفیوں سے وائٹ ہاؤس کی ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
"یہ ہنر مند سرکاری ملازمین سوشل سیکیورٹی، سابق فوجیوں کی خدمات، ٹیکس فائلنگ، صحت کی دیکھ بھال، قدرتی آفات سے متعلق امداد، اور دیگر اہم خدمات کو جدید خطوط پر استوار کر رہے تھے،” استعفیٰ نامے میں کہا گیا۔
"ان کی برطرفی ان لاکھوں امریکی شہریوں کے لیے خطرناک ہے جو روزمرہ کی بنیاد پر ان خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔ ان ماہرین کی اچانک رخصتی حکومتی نظام اور شہریوں کے ڈیٹا کو غیر محفوظ بنا دے گی۔”
فروری کی برطرفیوں کے بعد دفتر میں تقریباً 65 ملازمین باقی رہ گئے تھے، جن میں سے بیشتر کو حکومتی اداروں کی تنظیم نو کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مامور کر دیا گیا تھا۔
تاہم، منگل کو اس باقی ماندہ عملے میں سے ایک تہائی نے بھی استعفیٰ دے دیا۔
وسیع تر ردعمل
امریکی وفاقی حکومت، جو دو ملین سے زائد ملازمین پر مشتمل ہے، ملک کی سب سے بڑی آجر ہے۔ بہت سے نجی شعبے، بشمول زراعت اور ٹیکنالوجی، بھی حکومتی معاہدوں پر انحصار کرتے ہیں۔
لیکن ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی تیزی سے سرکاری ملازمین کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا، اور انہیں "بائیڈن کے بیوروکریٹس” قرار دیا۔
تاہم، بیشتر سرکاری ملازمین غیر جانبدار ہوتے ہیں اور مختلف انتظامیہ کے دوران حکومتی تسلسل کو یقینی بناتے ہیں۔
ٹرمپ اور مسک نے کچھ سرکاری اداروں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی بھی کوشش کی ہے، جن میں یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (USAID) شامل ہے، جو کانگریس کے ایک قانون کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اس اقدام نے صدر کے اختیارات پر قانونی جنگ کو جنم دیا ہے۔
ان بڑے پیمانے پر برطرفیوں اور "رضاکارانہ علیحدگی” کی پیشکشوں کے خلاف یونینز، ریاستی حکومتوں، اور سرکاری ملازمین نے قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور مسک کا سخت رویہ عام شہریوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے سوشل سیکیورٹی کی ادائیگیوں میں خلل، رازداری کی خلاف ورزی، اور دیگر بنیادی خدمات میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
"نجی کاروبار میں ‘تیزی سے کام کریں اور چیزوں کو بگاڑ دیں’ کا اصول چل سکتا ہے، لیکن حکومت میں ایسا کرنا عام شہریوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،” سابق چیف انفارمیشن آفیسر، امریکی محکمہ برائے ٹرانسپورٹیشن کورڈیل شاخٹر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا۔
ٹرمپ اور مسک میں اختلافات؟
ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اور صدر ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان بھی اختلافات ابھرنا شروع ہو گئے ہیں۔
ہفتے کے روز مسک نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر اعلان کیا کہ تمام وفاقی ملازمین کو پیر تک ایک ای میل کے ذریعے اپنی ہفتہ وار کارکردگی کی پانچ نکاتی فہرست بھیجنی ہو گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا نہ کرنے والے ملازمین کو مستعفی سمجھا جائے گا۔
لیکن اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی، اور اسے غیر قانونی قرار دیا گیا۔ کچھ سرکاری اداروں نے اپنے عملے کو مسک کے احکامات نظر انداز کرنے کی ہدایت دی۔ پیر تک، دفتر برائے پرسنل مینجمنٹ نے تمام محکموں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اس درخواست کو نظر انداز کر سکتے ہیں، اور ان کی نوکریاں محفوظ رہیں گی۔
ریپبلکن پارٹی کے کچھ سینیٹرز نے بھی مسک کے اقدامات پر سوال اٹھایا ہے۔
سینیٹر لیزا مرکووسکی نے کہا، "یہ ہمارے سرکاری ملازمین کے ساتھ سلوک کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ وہ بہتر سلوک کے مستحق ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، "ہمارے سرکاری ملازمین احترام کے مستحق ہیں۔ ان کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ویک اینڈ پر بھیجی گئی غیر سنجیدہ ای میل کافی نہیں ہے۔”
تاہم، مسک نے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے اعلان کیا:
"صدر کی صوابدید پر، انہیں دوسرا موقع دیا جائے گا۔ دوسری بار جواب نہ دینے پر برطرفی یقینی ہو گی۔”

