جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیچلی میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد ہنگامی حالت کا نفاذ

چلی میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد ہنگامی حالت کا نفاذ
چ

چلی میں کئی سالوں بعد ہونے والے سب سے بڑے بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ اس بریک ڈاؤن کی وجہ شمالی چلی میں ایک ہائی وولٹیج ترسیلی لائن میں خرابی بتائی جا رہی ہے، جس نے لاکھوں شہریوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا، خاص طور پر دارالحکومت سانتیاگو شدید متاثر ہوا۔

وزیر داخلہ کیرولینا توہا نے وضاحت کی کہ اس واقعے میں کسی تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، بلکہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ تھا۔ چلی کے صدر گیبریل بورک نے قوم سے خطاب میں کہا کہ تقریباً آٹھ ملین گھروں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا اور اس بحران کی ذمہ داری نجی کمپنیوں پر عائد کی۔

صدر بورک نے کہا، "یہ ناقابل قبول ہے کہ کچھ کمپنیاں لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو اس طرح متاثر کریں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے۔”

چلی کی قومی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی (Senapred) کے مطابق، ملک کے 16 میں سے 14 علاقے اس بریک ڈاؤن سے متاثر ہوئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت نے شمالی بندرگاہ اریکا سے لے کر جنوبی علاقے لاس لاگوس تک رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا اور ملک بھر میں مسلح افواج کو تعینات کرنے کا اعلان کیا۔

بدھ کی صبح چلی کے بجلی کے نظام کے منتظمین نے اطلاع دی کہ 90 فیصد بجلی بحال کر دی گئی ہے اور صورتحال معمول پر آ رہی ہے۔ نیشنل الیکٹرسٹی کوآرڈینیٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایرنیستو ہوبر کے مطابق، بجلی کی بحالی کے لیے کئی ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، بریک ڈاؤن کے دوران سانتیاگو کی سڑکوں پر اندھیرا چھا گیا، سائرن بجنے لگے، اور میٹرو سسٹم بند ہونے سے لاکھوں مسافر متاثر ہوئے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین