چین کے جنوب میں واقع گوانگشی ژوانگ خود مختار علاقے کے ناننگ ووشو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر، چینی اشیاء کو آسیان (ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز) ممالک بھیجا جاتا ہے۔ اسی طرح، آسیان ممالک سے مچھلیاں اور تازہ استوائی پھل اس ہوائی اڈے پر پہنچ کر چین کے مختلف شہروں تک ترسیل کیے جاتے ہیں۔ ناننگ کا ہوائی اڈہ، جو بیرونی دنیا کے لیے اس شہر کے کھلنے کا ایک اہم دروازہ ہے، تیزی سے چین اور آسیان ممالک کے درمیان ایک اہم تجارتی اور سفری مرکز بنتا جا رہا ہے۔
چینی اور غیر ملکی شہروں کے درمیان باہمی تبادلوں، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ناننگ میں "گلوبل میئرز ڈائیلاگ · ناننگ” کے عنوان سے ایک تقریب بدھ سے ہفتہ تک جاری رہے گی۔ اس مکالمے میں چین، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، تھائی لینڈ اور ویتنام سمیت آٹھ ممالک کے 12 صوبوں اور شہروں سے تعلق رکھنے والے سرکاری حکام، ماہرین اور دانشور شریک ہو رہے ہیں۔
جمعرات کے روز، اس مکالمے کے دوران "ناننگ انیشی ایٹو” جاری کیا گیا، جس میں شہروں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے، اقتصادی و تجارتی تعاون کو وسعت دینے، اور عوامی روابط کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔
اقتصادی تعاون کی توسیع
بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت چین اور آسیان ممالک کے درمیان اعلیٰ معیار کا تعاون مثبت نتائج دے رہا ہے، جس سے دونوں خطوں کے تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
چین-لاؤس ریلوے لاؤس کی پہلی جدید ریلوے بن چکی ہے، جو علاقائی رابطے کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ جکارتہ-بینڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے انڈونیشیا کے تیز رفتار ریل دور میں داخلے کی علامت ہے۔
اسی طرح، کمبوڈیا کی پھونوم پینھ-سیہانوک وِل ایکسپریس وے اور کئی جدید ہوائی اڈوں و بندرگاہوں کی تکمیل نے خطے میں نقل و حمل کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو اقتصادی ترقی کے لیے نئی توانائی فراہم کر رہا ہے۔
چین اور آسیان ممالک نے چین-آسیان فری ٹریڈ ایریا (ایف ٹی اے) کے ورژن 3.0 کے مذاکرات کو حتمی شکل دینے کا اعلان بھی کیا ہے، جو اس خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو مزید متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ناننگ انیشی ایٹو میں کہا گیا:
"ہم اقتصادی، تجارتی اور صنعتی تعاون کے لیے مزید پلیٹ فارمز کی تعمیر کے لیے تیار ہیں، تاکہ سرمایہ کاری، تجارت، صارفیت، سرمائے کے بہاؤ، سفر اور لاجسٹکس کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں، ہم کاروباری اداروں کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری اور تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔”
دوستانہ تبادلوں کا فروغ
سال 2024 کو چین-آسیان عوامی تبادلہ سال کے طور پر منایا گیا، جس نے چین اور آسیان ممالک کے عوام کے درمیان دوستی، تعاون، باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
گزشتہ سال، چین اور آسیان نے ثقافت، سیاحت، تعلیم، میڈیا، نوجوانوں اور شہری حکمرانی کے شعبوں میں متعدد سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔
اگست 2024 میں، چین کے جنوب مغربی صوبے گویژو کے شہر گویانگ میں چین اور آسیان کے اسمارٹ شہروں اور پائیدار ترقی کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں کم کاربن ماحول کی تعمیر اور مستقبل کے شہری ڈھانچے جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نوجوانوں کے درمیان تبادلے خاص طور پر چین-آسیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ 2024 چین-آسیان ایکسیلنٹ یوتھ سمر کیمپ اور 2024 چین-آسیان ایجوکیشن کوآپریشن ویک جیسے پروگراموں نے نوجوانوں کے درمیان دوستی اور باہمی تفہیم کو فروغ دیا، جو علاقائی تعاون کی طویل المدتی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ناننگ انیشی ایٹو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شہری ترقی اور گورننس کے تجربات اور دانش کو مشترک کیا جائے، ثقافتی تبادلوں اور باہمی سیکھنے کو مزید فروغ دیا جائے، سیاحتی تعاون کو تقویت دی جائے، نوجوانوں کے روابط کو بڑھایا جائے، اور تعلیمی اشتراک کو وسعت دی جائے، تاکہ چین-آسیان کے ایک قریبی مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تعمیر کی جا سکے۔

