جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامییوکرین اور امریکہ کے درمیان معدنیات کے حصول کا معاہدہ: دباؤ، مذاکرات...

یوکرین اور امریکہ کے درمیان معدنیات کے حصول کا معاہدہ: دباؤ، مذاکرات اور ممکنہ اثرات
ی

یوکرینی دارالحکومت کیئو میں ایک سینیئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین نے امریکہ کے ساتھ معدنیات کے حصول سے متعلق ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر، یوکرینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ "ہم نے (معاہدے میں) کچھ مثبت ترامیم کے بعد اس پر اتفاق کر لیا ہے، اور یوکرین اسے ایک خوش آئند پیش رفت سمجھتا ہے۔”

اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے اپنی ابتدائی شرط سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس کے تحت وہ یوکرین سے حاصل ہونے والی معدنیات کے منافع میں 500 ارب ڈالر کا حصہ چاہتا تھا۔ یوکرین نے اس معاہدے کے بدلے میں اپنی سلامتی کی ضمانت طلب کی تھی، تاہم واشنگٹن کی طرف سے اس پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی رواں ہفتے اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ تاہم، یوکرینی نیوز ویب سائٹ "یوکرینسکا پروڈا” کے مطابق، اس معاہدے پر یوکرینی وزیر خارجہ اور امریکی سیکریٹری خارجہ دستخط کریں گے۔

منگل کے روز، معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کیے بغیر، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے کے بدلے میں یوکرین کو "لڑائی جاری رکھنے کا حق” ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یوکرینی عوام بہت بہادر ہیں، لیکن امریکی مالی معاونت اور عسکری سازوسامان کے بغیر یہ جنگ بہت پہلے ختم ہو چکی ہوتی۔”

صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو اپنے مالی وسائل کی واپسی چاہیے، کیونکہ وہ یوکرین کو ایک بڑے مسئلے سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے، اور امریکی ٹیکس دہندگان کو ان کا پیسہ واپس ملنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے بعد، امن کے قیام کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو "سب کے لیے قابل قبول ہوں۔”

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں طے پایا ہے جب امریکہ اور یوکرین کے درمیان تعلقات میں تناؤ دیکھا جا رہا تھا۔ حالیہ دنوں میں، صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو "آمر” قرار دیا تھا اور ان پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ دوسری جانب، یوکرینی صدر نے اس سے پہلے معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ امریکی صدر "روس کی پھیلائی گئی غلط معلومات کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔”

یوکرینی وزیر اولگا سٹیفانی شینا نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات "تعمیری” رہے ہیں اور معاہدے کی بیشتر تفصیلات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم جلد ہی اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔”

خیال رہے کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے امریکی حکومت کی جانب سے یوکرین پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جس کے باعث دونوں ممالک کے صدور کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت، امریکہ کو یوکرین میں موجود نایاب معدنیات تک رسائی حاصل ہو گی، جو صنعتی اور عسکری شعبوں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین