جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیبرطانوی جامعات کو امتحانات کا اسٹریس ٹیسٹ کرنے کی ہدایت، اے آئی...

برطانوی جامعات کو امتحانات کا اسٹریس ٹیسٹ کرنے کی ہدایت، اے آئی کے استعمال کی شرح 92٪ تک پہنچ گئی
ب

برطانوی جامعات کو امتحانات کا ‘اسٹریس ٹیسٹ’ کرنے کی ہدایت، اے آئی کے استعمال کی شرح 92٪ تک پہنچ گئی برطانوی جامعات کو امتحانات اور اسائنمنٹس کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تقریباً تمام انڈرگریجویٹ طلبہ اپنی تعلیم میں جنریٹیو اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایک ہزار طلبہ پر مشتمل سروے کے مطابق، پچھلے 12 مہینوں میں اے آئی کے استعمال میں "دھماکہ خیز اضافہ” ہوا ہے۔ 2025 کے سروے میں تقریباً 88 فیصد طلبہ نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے اسائنمنٹس اور امتحانات کے لیے چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جو کہ 2024 میں 53 فیصد تھا۔ ہائیئر ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ اور کورٹیکس (ڈیجیٹل ٹیکسٹ بُک فراہم کرنے والی کمپنی) کی رپورٹ کے مطابق، کسی بھی اے آئی ٹول کا استعمال کرنے والے طلبہ کی شرح 2024 میں 66 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 92 فیصد ہو گئی، جبکہ صرف 8 فیصد طلبہ ایسے ہیں جو اے آئی کا استعمال نہیں کر رہے۔ رپورٹ کے مصنف جوش فری مین نے کہا کہ ایک سال میں اتنی تیزی سے رویوں میں تبدیلی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’جامعات کو اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، کیونکہ جنریٹیو اے آئی اب ایک مستقل حقیقت ہے انہوں نے مزید کہا کہ "جامعات کے لیے فوری سیکھنے کے اسباق موجود ہیں۔ ہر امتحان اور اسائنمنٹ کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کہیں وہ اے آئی کے ذریعے آسانی سے مکمل تو نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے لیے تدریسی عملے کو اے آئی کی طاقت اور امکانات سے روشناس کرانے کے لیے جرات مندانہ تربیتی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔”

انہوں نے زور دیا کہ "یہ مسائل کوئی بھی ادارہ تنہا حل نہیں کر سکتا، اس لیے بہترین طریقوں کا تبادلہ ضروری ہے۔ بالآخر، اے آئی کے ٹولز کو سیکھنے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ اسے محدود کرنے کے لیے۔”

طلبہ میں اے آئی پر انحصار بڑھنے لگا

طلبہ مضمونوں کا خلاصہ بنانے، تصورات کو سمجھنے اور خیالات پیدا کرنے کے لیے اے آئی پر انحصار کر رہے ہیں۔ تاہم، 18 فیصد طلبہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ براہ راست اے آئی سے تیار کردہ متن کو اپنے اسائنمنٹس میں شامل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا، ’’جب طلبہ سے اے آئی کے استعمال کی وجہ پوچھی گئی تو زیادہ تر نے بتایا کہ یہ ان کا وقت بچاتا ہے (51%) اور ان کے کام کے معیار کو بہتر بناتا ہے (50%)۔ "اے آئی کے استعمال سے گریز کی بنیادی وجوہات میں تعلیمی بے ضابطگی کے الزامات کا خطرہ اور غلط یا متعصب نتائج حاصل کرنے کا خوف شامل ہیں۔” ایک طالبعلم نے محققین کو بتایا، ’’مجھے اے آئی کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے کیونکہ یہ اسائنمنٹس مکمل کرنے میں آسانی فراہم کرتا ہے، لیکن مجھے ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں۔‘‘ سروے کے مطابق، اے آئی میں سب سے زیادہ دلچسپی لینے والے طلبہ میں خواتین، امیر گھرانوں کے طلبہ، اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی کے شعبے میں پڑھنے والے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، مراعات یافتہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے 50% طلبہ نے مضمونوں کا خلاصہ بنانے کے لیے جنریٹیو اے آئی کا استعمال کیا، جب کہ کم مراعات یافتہ پس منظر کے 44% طلبہ نے اس کا استعمال کیا۔ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ’’2024 میں سامنے آنے والا ڈیجیٹل فرق مزید بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

زیادہ تر طلبہ جامعات کی تعلیمی دیانتداری کی پالیسیوں سے مطمئن

زیادہ تر طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ جامعات نے تعلیمی دیانتداری (اکیڈمک انٹیگریٹی) سے متعلق معاملات کو بہتر طریقے سے حل کیا ہے، جہاں 80% طلبہ پالیسیوں کو واضح سمجھتے ہیں اور 76% کا ماننا ہے کہ اسائنمنٹس میں اے آئی کے استعمال کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم، صرف 36% طلبہ کو اے آئی مہارتوں کی تربیت ملی ہے۔ یونیورسٹیز یو کے کے ایک ترجمان نے کہا، ’’مستقبل کی ورک فورس کو مؤثر طریقے سے تعلیم دینے کے لیے، جامعات کو طلبہ کو اس دنیا کے لیے تیار کرنا ہوگا جو اے آئی سے تشکیل پائے گی، اور یہ واضح ہے کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ’’لیکن انہیں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اس ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ جامعات اور طلبہ امتحانات اور اسائنمنٹس کے تناظر میں اے آئی ٹولز سے جڑے ممکنہ خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔‘‘

مقبول مضامین

مقبول مضامین