وزیر اعظم شہباز شریف دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دو روزہ سرکاری دورے پر ازبکستان پہنچ گئے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے پی پی’ کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کی خصوصی دعوت پر تاشقند پہنچے۔ وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحٰق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر سرمایہ کاری و نجکاری عبدالعلیم خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔ تاشقند پہنچنے پر ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عاریپوف، وزیر خارجہ بختیار سیدوف، تاشقند کے میئر شوکت عمرزاکوف، ازبکستان میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق اور پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف سمیت اعلیٰ سفارتی و سرکاری حکام نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف تاشقند میں واقع یادگارِ آزادی کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ پھولوں کی چادر چڑھا کر ازبکستان کی عظیم تاریخی شخصیات کو خراج عقیدت پیش کریں گے اور ازبک عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کریں گے۔ وزیراعظم کو اس موقع پر یادگار پر بنائی گئی ازبکستان کی 3 ہزار سالہ تاریخ کی عکاسی کرنے والی منبت کاری کا دورہ کرایا جائے گا اور اس حوالے سے بریفنگ بھی دی جائے گی۔ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، ازبک صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقات کریں گے، جس میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان علاقائی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، سلامتی، علاقائی استحکام اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، دونوں رہنما عالمی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ ملاقات کے بعد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ تاشقند میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کاروباری و سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک بزنس فورم کا بھی انعقاد ہوگا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم ازبکستان کی تعمیراتی صنعت کا مشاہدہ کرنے کے لیے تاشقند میں قائم ٹیکنو-پارک کا دورہ بھی کریں گے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2023 میں پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ایک ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ وزارتِ اقتصادی امور کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں پاکستان-ازبکستان بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، معیشت اور سائنسی و تکنیکی تعاون (آئی جی سی) کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "آئی جی سی اجلاس کا سب سے اہم نتیجہ ایک ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دستخط ہے، جو نہ صرف مصنوعات اور مخصوص خدمات کے تبادلے کو فروغ دے گا بلکہ تجارتی عمل کو بھی آسان بنائے گا۔ جنوری 2025 میں ازبکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ رواں سال ازبکستان اور کراچی کے درمیان براہ راست پرواز کا نیا روٹ متعارف کرائے گا، جسے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔
یہ اعلان ازبکستان کے سفیر نے 2 سے 4 جنوری تک کراچی کے اپنے سرکاری دورے کے دوران کیا تھا، جہاں انہوں نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تاجر برادری کے اراکین سے ملاقات کی تھی۔

