جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانجولائی تا جنوری 9 ہمسایہ ممالک کیساتھ 6 ارب 37 کروڑ ڈالر...

جولائی تا جنوری 9 ہمسایہ ممالک کیساتھ 6 ارب 37 کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ
ج

پاکستان کا 9 ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ مالی سال 25 کے پہلے 7 ماہ کے دوران 40.42 فیصد اضافے کے ساتھ 6 ارب 37 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا، جو ایک سال قبل 4 ارب 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔ رپورٹ کے مطابق خطے کے ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بنیادی طور پر چین، بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ درآمدات کی وجہ سے بڑھا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں جولائی تا جنوری مالی سال 2025 کے دوران افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے چین کو کی جانے والی برآمدات میں کمی کا ازالہ ممکن ہوا۔ مالی سال 2024 میں ان ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 9 ارب 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو اس سے پچھلے سال کے 6 ارب 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ تھا۔ جولائی تا جنوری مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی 9 ممالک—افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ—کو برآمدات میں 5.91 فیصد اضافہ ہوا، جو 2 ارب 76 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ برآمدات 2 ارب 60 کروڑ 9 لاکھ ڈالر تھیں مالی سال 2025 کے ابتدائی 7 ماہ میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 19 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 2024 کے اسی عرصے میں 17 ارب 77 کروڑ ڈالر تھیں۔ اس طرح، برآمدات میں 10.16 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم، مجموعی برآمدات میں علاقائی ممالک کا حصہ صرف 14 فیصد رہا۔ اسی عرصے میں، مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں درآمدات 27.83 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال 7 ارب 15 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں۔ مزید تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں چین سے درآمدات 27.99 فیصد بڑھ کر 8 ارب 90 کروڑ 7 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ ایک سال قبل یہ 6 ارب 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھیں۔ مالی سال 2024 میں چین سے درآمدات 13 ارب 50 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک گئیں، جو پچھلے سال کے 9 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 39.78 فیصد زیادہ تھیں۔ خطے میں پاکستان کی زیادہ تر درآمدات چین سے ہوتی ہیں، اس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش سے کچھ حد تک خریداری کی جاتی ہے۔

دوسری جانب، مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں چین کو پاکستانی برآمدات 14.36 فیصد کمی کے ساتھ ایک ارب 47 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہیں، جو مالی سال 2024 کے اسی عرصے میں ایک ارب 72 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں۔ بھارت سے درآمدات 12.21 فیصد بڑھ کر 13 کروڑ 50 لاکھ 35 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ پچھلے سال یہ 12 کروڑ 62 لاکھ ڈالر تھیں۔ مالی سال 2024 میں بھارت سے درآمدات 8.866 فیصد اضافے کے ساتھ 20 کروڑ 68 لاکھ 90 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جو ایک سال قبل 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں مالی سال 2025 کے 7 ماہ میں بھارت کو برآمدات 4 لاکھ ڈالر رہیں، جو پچھلے سال ڈیڑھ لاکھ ڈالر تھیں۔ مالی سال 2024 میں بھارت کو برآمدات 36 لاکھ 69 ہزار ڈالر رہیں، جو ایک سال قبل 3 لاکھ 20 ہزار ڈالر تھیں افغانستان کو برآمدات میں نمایاں 94.16 فیصد اضافہ ہوا، اور یہ 55 کروڑ 60 لاکھ 86 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ ایک سال قبل یہ 28 کروڑ 60 لاکھ 79 ہزار ڈالر تھیں۔ مالی سال 2024 میں افغانستان سے درآمدات 50 لاکھ 16 ہزار ڈالر کے مقابلے میں ایک کروڑ 50 لاکھ 21 ہزار ڈالر ہوئیں۔ ایران کے ساتھ تجارتی اعداد و شمار باضابطہ طور پر دستیاب نہیں ہیں کیونکہ زیادہ تر تجارت غیر رسمی ذرائع سے کی جاتی ہے۔ تاہم، پاکستان نے بلوچستان کی سرحد کے ذریعے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے بارٹر سسٹم متعارف کرایا ہے۔ بنگلہ دیش کو برآمدات 28.74 فیصد اضافے کے ساتھ 46 کروڑ 50 لاکھ 33 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال 36 کروڑ 10 لاکھ 44 ہزار ڈالر تھیں۔ اسی عرصے میں، بنگلہ دیش سے درآمدات 44.90 فیصد اضافے کے ساتھ 4 کروڑ 90 لاکھ 5 ہزار ڈالر ہوئیں، جو پچھلے سال 3 کروڑ 30 لاکھ 85 ہزار ڈالر تھیں۔ یہ اضافہ ڈھاکا میں حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ چاول کے برآمد کنندہ شمس الاسلام کے مطابق، 26 ہزار 250 ٹن سفید چاول لے جانے والا پی این ایس سی کا پہلا مکمل لوڈ شدہ جہاز 4 مارچ کو بنگلہ دیش پہنچے گا۔ دسمبر 2024 میں، بنگلہ دیش نے حکومتی سطح پر (G2G) پاکستان سے چاول درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، جس کے بعد فروری 2025 کے پہلے ہفتے میں 50 ہزار ٹن چاول کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔ سری لنکا کو برآمدات 12.34 فیصد اضافے کے ساتھ 25 کروڑ 60 لاکھ 19 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 22 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں۔ درآمدات 3 کروڑ 40 لاکھ 55 ہزار ڈالر پر مستحکم رہیں۔ نیپال کو ترسیلات 10 لاکھ 88 ہزار ڈالر سے کم ہوکر 16 لاکھ 20 ہزار ڈالر رہ گئیں۔

مالدیپ کو برآمدات 50 لاکھ 35 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 50 لاکھ 53 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پاکستان اور بھوٹان کے درمیان کسی قسم کی تجارت نہیں ہوئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین