یہ پیشرفت واقعی حیران کن ہے، خاص طور پر اس لیے کہ امریکہ عام طور پر اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی آ رہی ہے، جس کی جھلک صدر ٹرمپ کے بدلتے ہوئے مؤقف میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی قرارداد میں جنگ بندی اور امن پر زور دیا، لیکن روس کو براہ راست جارح کہنے یا اس کی مذمت سے گریز کیا، جو یورپی ممالک کے سخت مؤقف کے برعکس تھا۔ فرانس اور برطانیہ جیسے اتحادیوں کی جانب سے بائیکاٹ اور یورپی ترامیم کو روس کی جانب سے ویٹو کیا جانا اس تقسیم کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیرِ سمندر بنیادی ڈھانچے پر حملے یا تخریب کاری ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے، خاص طور پر یوکرین جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں۔
اہم نکات:
زیرِ سمندر بنیادی ڈھانچے پر حملے
فن لینڈ اور ایسٹونیا کو بجلی فراہم کرنے والی ایسٹ لنک ٹو کیبل کو نقصان پہنچا، جس سے بجلی کی فراہمی میں نمایاں کمی ہوئی۔
روسی جہاز "ایگل ایس” پر شبہ ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اپنے لنگر سے کیبل کو نقصان پہنچایا۔
فن لینڈ کی پولیس نے 9 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی ہے، جبکہ نیٹو اور یورپی یونین نے اس واقعے کو "بنیادی ڈھانچے پر حملہ” قرار دیا ہے۔
یورپی ردعمل اور نیٹو کی حکمت عملی
نیٹو نے بحیرہ بالٹک میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
ایسٹونیا نے اپنی ایسٹ لنک ون کیبل کی حفاظت کے لیے ایک گشت پر مامور بحری جہاز تعینات کیا ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ "اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے مشتبہ حملوں کے سلسلے” کا حصہ ہے۔
- زیرِ سمندر کیبلز کی اہمیت اور خطرہ
- دنیا بھر میں تقریباً 600 زیرِ سمندر کیبلز موجود ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 14 لاکھ کلومیٹر ہے۔
- ان میں سے بیشتر انٹرنیٹ ڈیٹا کیبلز ہیں، جو عالمی انٹرنیٹ اور مواصلات کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
- ان کیبلز پر حملے یا تخریب کاری بین الاقوامی معیشت اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
کیا روس کی نئی جنگی حکمتِ عملی تیار ہو رہی ہے؟
یہ واقعہ اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ روس خفیہ ہائبرڈ جنگی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے، جس میں براہِ راست جنگ کے بجائے انفراسٹرکچر اور توانائی کے ذرائع کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
- نیٹو اور مغربی ممالک نے حالیہ مہینوں میں روس کی بڑھتی ہوئی سمندری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
- روس پہلے ہی زیرِ آب انٹرنیٹ کیبلز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی میں ملوث پایا گیا ہے۔
- یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں اسی طرح کے مزید حملے دیکھنے کو ملیں، جن کا مقصد مغربی دنیا کی توانائی اور کمیونیکیشن کو کمزور کرنا ہو۔
کیا اس سے نیٹو اور روس کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے؟
یہ واقعہ نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر اگر نیٹو کی فوجی موجودگی بڑھنے کے بعد کوئی نیا واقعہ پیش آیا۔
روس کی زیرِ سمندر سرگرمیاں: مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی تشویش
فن لینڈ اور ایسٹونیا کے درمیان بجلی کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی زیرِ سمندر کیبل کو نقصان پہنچنے کا واقعہ مغربی ممالک کے لیے باعثِ تشویش بن گیا ہے۔ 25 دسمبر 2024 کو، فن لینڈ کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ’فنگرڈ‘ کے اہلکاروں کو احساس ہوا کہ بجلی کی ترسیل میں ایک بڑی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اس مقام پر دو بحری جہاز موجود تھے، جن میں سے ایک روسی ملکیت کا ’ایگل ایس‘ تھا۔
بعد ازاں، فن لینڈ کے سرحدی محافظوں نے اس جہاز کو اپنی سمندری حدود میں روک کر تحقیقات کا آغاز کیا۔ شبہ ہے کہ اس جہاز نے دانستہ طور پر اپنا لنگر سمندر کی تہہ میں گھسیٹا، جس سے زیرِ آب موجود ’ایسٹ لنک ٹو‘ کیبل کو نقصان پہنچا۔ سمندری تہہ میں ایک لنگر بھی پایا گیا، جبکہ بعد میں سامنے آنے والی تصاویر میں واضح ہوا کہ ’ایگل ایس‘ کا بائیں جانب کا لنگر غائب تھا۔
یہ واقعہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے پیش آنے والے ان سلسلہ وار واقعات میں سے ایک ہے، جن میں زیرِ آب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا۔ یورپی یونین نے اسے ’اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی تازہ ترین کڑی‘ قرار دیا ہے۔ اس کے جواب میں نیٹو نے بحیرہ بالٹک میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا، جبکہ ایسٹونیا نے اپنی زیرِ آب بجلی کی کیبل کی نگرانی کے لیے ایک بحری جہاز تعینات کر دیا ہے۔
روس کی ’ہائبرڈ جنگ‘ اور مغرب کی تشویش روس اور مغربی یورپ کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے، جو کریمیا پر روسی قبضے اور مشرقی یوکرین میں روسی حمایت یافتہ بغاوت کے بعد مزید خراب ہو گئے۔ یوکرین پر 2022 میں روسی حملے کے بعد، نیٹو کو یقین ہے کہ روس ایک خفیہ جنگ، جسے ’ہائبرڈ وارفیئر‘ کہا جاتا ہے، بھی چلا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت، روس غیر روایتی طریقے اختیار کر کے مغربی ممالک کو یوکرین کی حمایت سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، روسی فوج کے پاس گہرے سمندر میں کارروائیوں کے لیے ایک وسیع انفراسٹرکچر موجود ہے۔ روس کی اسپیشل فورسز، بحریہ، اور انٹیلیجنس ایجنسیاں سمندری کیبلز کی نقشہ سازی، ان کی نگرانی اور ممکنہ طور پر تخریب کاری کے کاموں میں ملوث ہو سکتی ہیں۔
مغربی انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ
فن لینڈ کے علاوہ، برطانیہ نے بھی روسی جہازوں کی مشکوک نقل و حرکت کی نشاندہی کی ہے۔ نومبر 2024 اور جنوری 2025 میں برطانوی بحریہ نے روسی جہاز ’یانتر‘ کو برطانیہ کے اہم زیرِ آب انفراسٹرکچر کے قریب دیکھا، جو بظاہر معلومات اکٹھی کرنے اور نقشہ سازی میں مصروف تھا۔
مغربی ممالک اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ روس ایک طویل المدتی حکمت عملی کے تحت نیٹو اور یورپی یونین کے ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے میں سرگرم ہے۔ یہ تمام واقعات ایک بڑی مہم کا حصہ نظر آتے ہیں، جس کا مقصد مغربی ممالک کی یوکرین کے لیے حمایت کو کمزور کرنا اور روسی اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔

