اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس مخالف تمام یورپی ترامیم مسترد کرتے ہوئے یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امریکی قرارداد منظور کر لی ہے۔ روس کی قرارداد پر امریکہ نے یورپ کے بجائے ماسکو کا ساتھ دیا۔ ایسا بہت ہی کم ہوا کہ اپنے یورپی اتحادیوں کے خلاف یوں امریکہ دوسری صف میں جا کھڑا ہوا ہو۔ یہ صورتحال واضح طور پر امریکہ کے بدلتے ہوئے مؤقف کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر یوکرین میں روسی جنگ کے تین برس مکمل ہونے پر اقوام متحدہ میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں دو مختلف قراردادیں پیش کی گئیں، جن میں امریکہ کا طرزِ عمل غیر معمولی رہا۔ یوکرین اور یورپی یونین کی مشترکہ قرارداد، جس میں روس کی مذمت اور اس کی افواج کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا، امریکہ کی مخالفت کے باوجود منظور ہو گئی۔ دوسری جانب، سلامتی کونسل میں پیش کی گئی امریکی قرارداد، جس میں روس کو جارح قرار دیے بغیر امن کی اپیل کی گئی تھی، یورپی ترامیم مسترد ہونے کے بعد منظور کر لی گئی۔ یہ ایک غیر متوقع پیشرفت تھی کہ امریکہ نے یورپی اتحادیوں کے بجائے روس کی پوزیشن کو زیادہ اہمیت دی۔ امریکہ، روس، چین، اور پاکستان سمیت دس ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ فرانس اور برطانیہ نے ترامیم مسترد ہونے پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔
یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں امریکی صدر سے ملاقات کر رہے تھے، اور برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر بھی جلد امریکی صدر سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ان واقعات نے امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور یورپی سکیورٹی کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ یوکرین کی نائب وزیر خارجہ ماریانہ بیٹسا نے کہا کہ عالمی برادری کو یقینی بنانا ہوگا کہ جارحیت کی مذمت کی جائے، نہ کہ اسے کسی بھی طرح کا انعام دیا جائے۔

