جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانحکومت کا آئی پی پیز کو ادائیگیوں میں 1,500 ارب روپے کی...

حکومت کا آئی پی پیز کو ادائیگیوں میں 1,500 ارب روپے کی بچت کا دعویٰ
ح

حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اب تک مجموعی طور پر 27 آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو مستقبل کی ادائیگیوں میں تقریباً ایک ہزار 500 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جب کہ ایک پاور پروڈیوسر کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں حکومت نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز (نجی بجلی پیدا کرنے والے اداروں) کے ساتھ معاہدوں اور ٹیرف میں نظرثانی کے نتیجے میں 1,500 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔

بچت کی تفصیلات

سینیٹ کمیٹی کو دی گئی پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ:

  • 5 آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرنے سے 411 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
  • 8 آئی پی پیز کے ٹیرف معاہدوں پر نظرثانی کے ذریعے 238 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی۔
  • 14 تھرمل آئی پی پیز کے ٹیرف میں ترمیم سے 922 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

مزید اقدامات اور حکومتی مؤقف

  • 45 پبلک سیکٹر پاور پلانٹس کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں تاکہ مزید بچت حاصل کی جا سکے۔
  • وزیر توانائی اویس لغاری نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی نہیں کرے گی اور نہ ہی اس پر کوئی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
  • وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی نے کہا کہ حکومت 5 آئی پی پیز کو 70 سے 80 ارب روپے کی ادائیگی کر رہی ہے، جن کے معاہدے ختم ہو چکے ہیں، جن میں 30 ارب روپے صرف حب پاور کمپنی کو دیے گئے۔
  • 300 ارب روپے کے تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج کے واجبات بھی مذاکرات کے ذریعے معاف کرائے جا رہے ہیں، جن میں سے 100 ارب روپے پہلے ہی معاف کیے جا چکے ہیں۔

فرانزک آڈٹ کی ضرورت

آئی پی پیز کے ساتھ ان مذاکرات اور بچت کے دعوے کے حوالے سے شفافیت یقینی بنانے کے لیے فرانزک آڈٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے، تاکہ ان معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جا سکیں۔

آئی پی پیز کے فرانزک آڈٹ، ٹیرف میں کمی اور گردشی قرضوں پر حکومتی موقف

فرانزک آڈٹ کے چیلنجز

  • سینیٹر شبلی فراز کے سوال پر کہ فرانزک آڈٹ کیوں نہیں کیا گیا جبکہ ماضی میں آئی پی پیز کو کھربوں روپے کی ادائیگیاں کی گئی تھیں،
    • معاون خصوصی محمد علی نے وضاحت کی کہ 50 سے 60 پاور پلانٹس کا فرانزک آڈٹ پاکستان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس پر خطیر لاگت آئے گی۔
    • 2020 میں کمیٹی نے 2.2 کروڑ روپے مانگے تھے لیکن فنڈز نہیں دیے گئے۔
    • تاہم، وہ آئی پی پیز جو ٹیرف میں نظرثانی پر راضی نہیں، ان کا فرانزک آڈٹ کیا جا رہا ہے۔

آئی پی پیز کی اضافی ادائیگیاں اور معاہدے

  • آئی پی پیز نے حکومت سے غیر ضروری ادائیگیاں حاصل کیں کیونکہ انہوں نے ایندھن اور کارکردگی کے معیار میں غلط بیانی کی۔
  • لیکن، اوور انوائسنگ کے الزامات کے ٹھوس شواہد حاصل کرنا مشکل ہے، کیونکہ اگر حکومت ثابت نہ کر سکی تو آئی پی پیز بین الاقوامی ثالثی عدالت جا سکتی ہیں۔
  • ٹاسک فورس نے 20 سال پرانی بیلنس شیٹ کا جائزہ لیا ہے اور مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔
  • وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلے ہی آئی پی پیز سے 14 کھرب روپے سے زائد وصول کر لیے ہیں۔

صارفین کو کب فائدہ ہوگا؟

  • سینیٹر محسن عزیز نے سوال اٹھایا کہ صارفین کو ان بچتوں کا فائدہ کب ملے گا؟
  • محمد علی نے جواب دیا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کا عمل جاری ہے،
    • جون 2024 سے اب تک بجلی 4.11 روپے فی یونٹ سستی ہو چکی ہے، اور مزید کمی متوقع ہے۔

حکومتی اقدامات

  • پاور پلانٹس کے لیے ریٹرن 17% مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ ماضی میں یہ 35% تک تھا۔
  • حکومت نے بجلی گھروں سے 35 ارب روپے وصول کیے ہیں، جو وفاقی حکومت نے ایندھن کے عوض ادا کیے تھے۔
  • 45 قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر مذاکرات جاری ہیں تاکہ منافع کے مارجن کو کم کر کے پائیدار نرخ مقرر کیے جا سکیں۔

گردشی قرضوں کا مسئلہ

  • حکومت پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں پر سود معاف کرانے اور اگلے 5 سے 7 سال میں مکمل ادائیگی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
  • اس حوالے سے ایک نیا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ گردشی قرضوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
مقبول مضامین

مقبول مضامین